وزیراعظم کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں جاری اصلاحات سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیکس نظام کو جدید، شفاف اور کاروبار دوست بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایف بی آر کی کارکردگی، ٹیکس وصولیوں، ڈیجیٹل اصلاحات اور مختلف صنعتی شعبوں میں نافذ کیے گئے پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اس لیے حکومت تاجروں، صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، صنعت اور برآمدات میں اضافہ ہی معاشی ترقی کی ضمانت ہے، لہٰذا کاروباری ماحول کو مزید بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم نے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی کہ کاروباری طبقے کے ساتھ مثبت اور سہولت کار رویہ اختیار کیا جائے اور ان کے جائز مسائل کو بلا تاخیر حل کیا جائے، ٹیکس دہندگان کے اعتماد میں اضافہ کیے بغیر محصولات کے نظام کو مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔
وزیراعظم نے ایف بی آر کے سینئر افسران کو ہدایت دی کہ وہ ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی کا دورہ کریں، جہاں صنعتکاروں، تاجروں اور کاروباری تنظیموں کے نمائندوں سے براہ راست ملاقاتیں کرکے ان کے مسائل سنیں اور فوری حل کے لیے اقدامات کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو کمپنیاں اور کاروباری ادارے ایمانداری سے ٹیکس قوانین پر عمل کرتے ہیں، حکومت ان کی حوصلہ افزائی کرے گی اور قومی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف بھی کیا جائے گا تاکہ ٹیکس کلچر کو فروغ مل سکے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے، سرمایہ کاری بڑھانے، برآمدات میں اضافے اور ٹیکس نظام کو مزید شفاف، ڈیجیٹل اور مؤثر بنانے کے لیے اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری رکھے ہوئے ہے، اس عزم کا اظہار کیا کہ ٹیکس نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف شفافیت آئے گی بلکہ ٹیکس چوری کی روک تھام میں بھی مدد ملے گی۔
اجلاس کے دوران ایف بی آر حکام نے وزیراعظم کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شوگر، سیمنٹ، ٹوبیکو، ٹائلز اور فرٹیلائزرز کی صنعتوں میں پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم کامیابی سے فعال ہو چکا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل اور بیوریجز سیکٹر میں بھی اس نظام کی تنصیب کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
مزید پڑھیں: ’انویسٹ پاک‘ پورٹل کا افتتاح: پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، وزیر خزانہ
بریفنگ میں بتایا گیا کہ جدید مانیٹرنگ نظام کے نفاذ سے محصولات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران شوگر انڈسٹری سے 42 ارب روپے، سیمنٹ سیکٹر سے 38 ارب روپے جبکہ بیوریجز انڈسٹری سے 15 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا، جسے اصلاحاتی اقدامات کی کامیابی قرار دیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، ایف بی آر کے اعلیٰ حکام اور دیگر متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی، جبکہ وزیراعظم کو ٹیکس اصلاحات کے آئندہ مرحلے اور محصولات میں مزید اضافے کے لیے مجوزہ اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔







