خواتین کی صحت سے متعلق اشیاء پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز
وفاقی حکومت نے خواتین کی صحت سے متعلق ضروری اشیاء، جن میں سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات شامل ہیں، پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا کہ یہ اشیاء خواتین کی صحت، وقار اور معاشرتی سرگرمیوں میں مؤثر شرکت کے لیے بنیادی ضرورت ہیں، اس لیے ان پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں آبادی میں تیزی سے اضافے کی شرح تشویشناک ہے اور خاندانی منصوبہ بندی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اسی لیے مانع حمل ادویات پر بھی مکمل ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پراپرٹی ٹرانسفر ٹیکس میں کمی
وفاقی حکومت نے جائیداد کی منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کا اعلان بھی کیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق فائلرز کے لیے پراپرٹی خریداری پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد جبکہ فروخت پر ٹیکس 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے تعمیراتی شعبے کی سرگرمیاں بڑھیں گی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ ملے گا۔
تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس میں کمی
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے تحت چار انکم ٹیکس سلیبس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس 23 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد مقرر کیا گیا جب کہ 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس 30 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کیا گیا۔
اسی طرح 41 سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس 35 فیصد سے کم کر کے 29 فیصد اور 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر ٹیکس 35 فیصد سے کم کر کے 32 فیصد کر دیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق اس اقدام سے تنخواہ دار طبقے پر مالی دباؤ کم ہوگا اور معاشی ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
سپر ٹیکس میں کمی اور کاروباری ریلیف
وفاقی حکومت نے سپر ٹیکس میں بھی کمی کی تجویز دی ہے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے سالانہ آمدن والے کاروباروں پر عائد سپر ٹیکس اور دیگر اضافی چارجز مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح 50 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کاروباری ماحول بہتر بنانا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو فروغ دینا اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔ تاہم بینکنگ سیکٹر، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور کھاد سازی کے شعبے پر موجودہ چارجز برقرار رہیں گے۔
لگژری گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ
وزیر خزانہ کے مطابق درآمد کی جانے والی 2000 سے 3000 سی سی ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کی جا رہی ہے، جبکہ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکس دو کروڑ روپے سے زائد قیمت رکھنے والی لگژری الیکٹرک گاڑیوں (ای وی ایس) پر بھی لاگو ہوگا۔
الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے مراعات
حکومت نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں، کاروں اور بسوں پر موجود رعایتی نظام کو آئندہ مالی سال میں بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسی طرح درآمد شدہ الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت دینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کے خریداروں کے لیے مالی سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جبکہ بینک اور مالیاتی ادارے کم شرح سود پر قرض فراہم کریں گے تاکہ متوسط طبقہ بھی ان گاڑیوں تک رسائی حاصل کر سکے۔
بین الاقوامی کارڈ ٹرانزیکشنز پر ٹیکس میں کمی
وفاقی بجٹ میں کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں نمایاں کمی کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اس وقت بیرون ملک کارڈ کے استعمال پر پانچ فیصد ٹیکس لاگو ہے، جس کی وجہ سے غیر رسمی ذرائع کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس شرح کو کم کر کے 0.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مالیاتی ٹرانزیکشنز کو دستاویزی بنایا جا سکے اور معیشت کو رسمی نظام کے تحت لایا جا سکے۔
دوسری جانب آئندہ مالی سال کیلئے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کر دیا گیا، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیوں کیلئے بھی نئے اہداف طے کر دیے گئے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا مجموعی ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں 7 ہزار 613 ارب روپے جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز سے 7 ہزار 651 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بجٹ میں کسٹم ڈیوٹی کی وصولیوں کا ہدف ایک ہزار 651 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ سیلز ٹیکس سے 4 ہزار 972 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ایک ہزار 73 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔







