اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی گئی ترسیلاتِ زر کا حجم 3.6 ارب ڈالر رہا، جس کی تفصیلات جمعے کو جاری کی گئیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2025 میں پاکستان کو 3.2 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئی تھیں۔ اس کے مقابلے میں ستمبر 2026 کے دوران ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 12.7 فیصد اضافہ ہوا۔

تاہم، ماہانہ بنیاد پر ترسیلاتِ زر میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اگست 2026 میں پاکستان کو 3.7 ارب ڈالر موصول ہوئے تھے، جبکہ ستمبر میں یہ حجم کم ہو کر 3.6 ارب ڈالر رہ گیا، جو 1.9 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

یاد رہے کہ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی یعنی جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران، پاکستان کو مجموعی طور پر 10.9 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ترسیلاتِ زر کا حجم 9.5 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر میں سالانہ بنیاد پر 14.74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ترسیلاتِ زر پاکستان کے بیرونی کھاتے کو سہارا دینے اور ملکی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم سے ان پر انحصار کرنے والے گھرانوں کی آمدن میں بھی اضافہ ہوتا ہے، جس سے ان کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔