آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے اس حوالے سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو باقاعدہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ اٹک میں واقع سوغری بلاک سے دریافت شدہ ذخائر کی پیداوار کامیابی سے شروع ہو چکی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ذخائر 17 مارچ کو سوغری بلاک کنوئیں ون میں دریافت ہوئے تھے۔

کمپنی کے مطابق سوغری کنوئیں سے یومیہ 14 ملین ایم ایم ایس سی ایف ڈی گیس حاصل ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یومیہ 430 بیرل ہلکا تیل بھی پیدا ہو رہا ہے۔ یہ دونوں وسائل ملکی توانائی کے مجموعی ذخائر میں ایک قیمتی اضافہ ثابت ہوں گے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ گیس کو قومی گیس سسٹم میں شامل کرنے کے لیے 8 انچ قطر کی 14 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھائی گئی ہے۔ سوغری نارتھ پلانٹ سے حاصل شدہ گیس کو اب اسلام آباد کے قریب موجود دھکنی پلانٹ سے منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ اسے باقاعدہ پروسیسنگ کے بعد سپلائی لائن میں ڈالا جا سکے۔

What is crude oil
یہ ذخائر 17 مارچ کو سوغری بلاک کنوئیں ون میں دریافت ہوئے تھے۔ (تصویر: دی بیلنس منی)

کمپنی نے واضح کیا کہ سوغری نارتھ بلاک سے نکلنے والی گیس کو پراسیسنگ کے بعد سوئی نادرن گیس پائپ لائن کے نظام میں شامل کر دیا جائے گا۔ اس پیش رفت سے ملک میں گھریلو اور صنعتی شعبوں کے لیے گیس کی فراہمی بہتر ہوگی، جب کہ تیل کی پیداوار میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

یہ دریافت نہ صرف ملک کی توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد دے گی بلکہ درآمدی بل میں بھی کمی واقع ہوگی۔ پاکستان ہر سال توانائی کے شعبے میں اربوں ڈالر کے تیل اور گیس درآمد کرتا ہے، ایسے میں اٹک کے ذخائر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’ٹھوس شواہد‘ ہیں کہ انڈین ریاستی ادارے پاکستان میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

دھیان رہے کہ یہ دریافت اور اس کی پیداوار ملک کے توانائی شعبے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتی ہے، جو ایک طرف ملکی معیشت کو سہارا دے گی اور دوسری جانب توانائی کے بحران میں کمی کا سبب بنے گی۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے زیرزمین وسائل اب بھی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ان کی دریافت اور پیداوار کے عمل کو مزید تیز کیا جائے تو توانائی بحران کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔