وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران شہریوں کی آمدن میں 97 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ 2019 سے 2025 تک گھریلو اخراجات میں 113 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ملک میں اوسط ماہانہ آمدن 82 ہزار اور اخراجات 79 ہزار روپے ہیں۔

سروے کے مطابق اخراجات میں سب سے زیادہ حصہ فرنشنگ، گھریلو آلات، صحت، خوراک، گڈز اور سروسز پر رہا۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ذاتی ملکیتی گھروں کی شرح میں کمی دیکھی گئی۔

سروے کے مطابق 2018-19 میں 84 فیصد لوگوں کے پاس اپنا گھر تھا، جب کہ موجودہ سروے میں یہ شرح کم ہو کر 82 فیصد رہ گئی ہے۔ کرائے کے گھروں میں رہنے والوں کی تعداد 10 فیصد سے بڑھ کر 10.5 فیصد ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں کلین فیول کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ پانچ سال میں کلین فیول کا استعمال 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد ہوگیا۔ لائٹنگ اور کوکنگ کے لیے نیچرل گیس، ایل پی جی، بائیو گیس اور سولر انرجی کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا۔

ہینڈ پمپ سے پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 24 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی، جب کہ نل کے پانی کا استعمال 18 فیصد سے بڑھ کر 22 فیصد ہوگیا۔ فلٹر شدہ پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 9 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

سروے کے مطابق ملک میں 7 فیصد آبادی ابھی تک بیت الخلا جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے آمدن میں ٹک ٹاک سب سے آگے رہا، پلیٹ فارم استعمال کرنے والے 88 فیصد افراد ٹک ٹاک پر سرگرم ہیں، جب کہ یوٹیوب پر وی لاگ کرنے والے 86 فیصد ہیں۔

سروے میں بتایا گیا کہ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہوگئی ہے، جب کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

مکمل حفاظتی ٹیکہ جات (ریکارڈ کی بنیاد پر) کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہوگئی اور صاف ایندھن کے استعمال میں اضافہ 35 سے 38 فیصد تک دیکھا گیا۔

پاکستان میں قومی سطح پر شرحِ خواندگی 60 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہوگئی، جب کہ اسکول سے باہر بچوں کی شرح 30 سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی۔

یہ سروے ملک کے سماجی و معاشی حالات کا جامع جائزہ فراہم کرتا ہے اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی و پالیسی سازی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 1963 سے قومی و صوبائی سطح پر سماجی و معاشی اعشاریوں کی نگرانی کر رہا ہے۔

اس سے قبل یہ سروے 2018-19 میں کیا گیا تھا، جس میں آمدنی اور کھپت کے رجحانات سے متعلق تفصیلی ڈیٹا فراہم کیا گیا تھا۔

خانہ و مردم شماری 2023 کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024-25 مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے منعقد کیا گیا۔

اس سروے کی فیلڈ سرگرمیاں جون 2025 میں سہ ماہی بنیادوں پر مکمل ہوئیں، جن کے دوران ملک بھر میں قومی اور صوبائی سطح پر 32 ہزار گھرانوں کا احاطہ کیا گیا۔ ڈیٹا اکٹھا کرنے اور حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے مکمل طور پر مربوط انٹرپرائز ریسورس پلاننگ نظام استعمال کیا گیا۔