صحافیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور ان کے موبائل فونز و رپورٹنگ آلات ضبط کیے جانے کی اطلاعات نے انڈیا میں آزادیٔ صحافت اور میڈیا کے تحفظ سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔
نئی دہلی میں مظاہرین انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس عمل کے نتیجے میں اہل ووٹرز کے نام فہرستوں سے خارج ہوسکتے ہیں، تاہم انڈین الیکشن کمیشن نے اس عمل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے کے الزامات مسترد کیے ہیں۔
انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کی کوریج کرنے والے بعض صحافیوں کو دہلی پولیس نے حراست میں لیا، جب کہ کچھ صحافیوں نے دعویٰ کیا کہ پریس کی شناخت ظاہر کرنے کے باوجود ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔
بعض افراد کے موبائل فونز اور رپورٹنگ کا سامان بھی ضبط کیا گیا۔ نیہا بورا نے مظاہرین اور ان واقعات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے ساتھ پولیس کے مبینہ رویے پر تنقید کی ہے۔
صحافیوں کی تنظیموں جیساکہ پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمنز پریس کور اور دہلی یونین آف جرنلسٹس نے بھی ان واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان تنظیموں نے صحافیوں کو پولیس کارروائی کی کوریج کے دوران نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور کیا یہ انڈیا میں ایک بڑی سیاسی تحریک بن سکتی ہے؟
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے بھی دہلی پولیس پر زور دیا ہے کہ میڈیا اہلکاروں کو بغیر کسی مداخلت کے احتجاج کی رپورٹنگ کرنے دی جائے۔
دوسری جانب دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ بعض افراد نے خود کو صحافی ظاہر کیا اور پولیس کے کام میں مداخلت کی۔ تاہم، پولیس کے مبینہ طاقت کے استعمال اور صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی سے متعلق الزامات پر میڈیا حقوق کی تنظیموں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ معاملہ احتجاج کی کوریج، صحافیوں کے تحفظ اور انڈیا میں آزادیٔ صحافت کے حوالے سے بحث کا باعث بن رہا ہے۔







