چین نے 1978 کے بعد ڈینگ ژیاؤپنگ کی قیادت میں معاشی اصلاحات متعارف کرائیں، کسانوں کو زیادہ معاشی آزادی دی اور شینژن جیسے خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا۔

2001 میں عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) میں شمولیت کے بعد چین عالمی سپلائی چین کا اہم مرکز بن گیا۔ آج سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریوں اور جدید صنعتوں میں اس کی اہمیت امریکا اور یورپ کے لیے بھی ایک بڑا معاشی چیلنج ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے 1960 کی دہائی میں صنعتی ترقی اور معاشی منصوبہ بندی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی، لیکن بعد کی دہائیوں میں سیاسی عدم استحکام، کمزور برآمدات، محدود ٹیکس وصولیوں، قرضوں اور تعلیم و ہنر میں ناکافی سرمایہ کاری جیسے مسائل برقرار رہے۔

آخر چین نے غربت سے عالمی معاشی طاقت تک کا سفر کیسے طے کیا؟ پاکستان کو ملنے والے ترقی کے مواقع کیوں پائیدار معاشی تبدیلی میں نہ ڈھل سکے؟ اور کیا پاکستان چین کے تجربے سے سیکھ کر اپنی معیشت کا رخ بدل سکتا ہے؟

چین کی ترقی اور پاکستان کے معاشی زوال کی وجوہات جاننے کے لیے مکمل ویڈیو دیکھیے۔