پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق بیجنگ اور کوالالمپور کا فلائٹ آپریشن بالترتیب 11 اور 14 اپریل سے معطل کر دیا جائے گا، جب کہ خلیجی ممالک (سوائے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب) کے لیے پروازیں بھی اپریل کے اختتام تک بند کر دی جائیں گی۔ متحدہ عرب امارات کے لیے ہفتہ وار پروازوں کی تعداد محدود کر کے 16 کر دی گئی ہے۔

نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق پی آئی اے میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ممکنہ مالی نقصانات کے تدارک کے لیے حکمت عملی مرتب کی گئی۔

اجلاس میں اصولی طور پر تمام ڈسکاؤنٹس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، تاہم بچوں اور شیرخوار مسافروں کے لیے رعایت برقرار رکھی گئی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ پی آئی اے انتظامیہ نے یہ فیصلے جیٹ فیول کی قیمتوں میں مسلسل چوتھی بار اضافے کے تناظر میں کیے ہیں۔

ان کے مطابق ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت کا مکمل بوجھ مسافروں پر منتقل کرنا ممکن نہیں، اسی لیے بعض سخت انتظامی اقدامات ناگزیر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں جلد معمول پر آ جائیں گی، جس کے بعد متاثرہ روٹس بحال کر دیے جائیں گے۔

دریں اثنا، حکومت کی کفایت شعاری مہم کے تحت پی آئی اے نے ایک نیا سرکلر جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور طیاروں کے ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث ادارہ مالی دباؤ کا شکار ہے۔

سرکلر کے مطابق پی آئی اے کی پروازوں میں کارگو شپمنٹس پر وار رسک چارجز نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پی آئی اے انتظامیہ نے ہدایات جاری کی ہیں کہ طیاروں کو رن وے تک لے جاتے وقت ایک ہی انجن استعمال کیا جائے۔ مزید برآں، اندرونِ ملک اور سعودی عرب جانے والی پروازوں میں مسافروں کی تعداد کے مطابق کھانا لوڈ کیا جائے گا اور اضافی خوراک پر پابندی ہوگی، تاکہ اضافی ایندھن کے استعمال سے بچا جا سکے۔

سرکلر میں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ الیکٹرک جنریٹر کا استعمال صرف ہنگامی صورتحال میں کیا جائے۔