ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق اگرچہ اپریل 2026 میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت 1.73 روپے فی یونٹ کا مثبت اثر، یعنی بلوں میں اضافہ، ہوا، تاہم سال 2026 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) کے لیے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) منفی رہی، جو 1.93 روپے فی یونٹ بنتی ہے۔

ترجمان کے مطابق چونکہ منفی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ (1.93 روپے) مثبت ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ (1.73 روپے) سے زیادہ ہے، اس لیے دونوں ایڈجسٹمنٹس کے اثرات ایک دوسرے کو ختم کرنے کے بعد صارفین کو خالص 20 پیسے فی یونٹ کا ریلیف مل رہا ہے۔

اس کے نتیجے میں جون 2026 میں جنوری تا مئی 2026 کے مقابلے میں بجلی کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس پس منظر کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اپریل 2026 میں ایک سنگین عالمی بحران پیدا ہوا تھا۔

ترجمان کے مطابق  سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کی کمی، جس کا مجموعی حجم 65 ارب روپے بنتا ہے، بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے، قیمتوں میں استحکام اور انکریمنٹل ٹیرف پیکجز کے باعث ممکن ہوئی۔مجموعی طور پر متوقع بیس ٹیرف کے مقابلے میں 46 ارب روپے کی منفی تبدیلی صارفین کے حق میں جا رہی ہے۔

 ترجمان کے مطابق یہ تمام حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ریفرنس ٹیرف دانشمندانہ انداز میں مقرر کیا گیا تھا اور حکومت نے عالمی و علاقائی مشکلات کے باوجود اپنی مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث آر ایل این جی کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی اور عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی متوقع قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی تھی۔