نجی نشریاتی ادارے کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں پاکستان کو 5 ارب 86 کروڑ ڈالر کی بیرونی مالی معاونت موصول ہوئی، جس میں 5 ارب 76 کروڑ ڈالر کے نئے قرضے اور 9 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کی گرانٹ شامل ہے۔ یہ رقم گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 91 کروڑ ڈالر زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی ایک ارب ڈالر کی قسط شامل ہونے کے بعد مجموعی حجم بڑھ کر 6 ارب 76 کروڑ ڈالر ہو گیا۔ اس دوران پاکستان نے یومیہ بنیاد پر اوسطاً 7 ارب 86 کروڑ روپے کا نیا قرض حاصل کیا، جبکہ مقامی کرنسی میں نئے قرضوں کی مالیت 1904 ارب روپے رہی۔
اسی عرصے میں سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر اور چین نے ایک ارب ڈالر کے قرضے رول اوور کیے۔ پہلے آٹھ ماہ میں مختلف عالمی مالیاتی اداروں نے مجموعی طور پر 2 ارب 37 کروڑ ڈالر فراہم کیے، جب کہ نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کے تحت 1 ارب 76 کروڑ ڈالر حاصل کیے گئے۔
مزید برآں، عالمی بینک نے 72 کروڑ 20 لاکھ ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک نے 66 کروڑ ڈالر، جب کہ اسلامی ترقیاتی بینک نے قلیل مدت کے لیے 48 کروڑ ڈالر سے زائد قرض فراہم کیا۔ اسی طرح آئی بی آر ڈی نے بھی 35 کروڑ ڈالر سے زائد کی مالی معاونت فراہم کی، جب کہ مختلف دوست ممالک کی جانب سے ایک ارب ڈالر سے زائد کے قرضے حاصل کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے 33 لاکھ ڈالر کی گرانٹ سمیت 81 کروڑ ڈالر فراہم کیے، جب کہ آٹھ ماہ کے دوران 80 کروڑ ڈالر کا ادھار تیل بھی دیا۔ دوسری جانب چین نے 27 کروڑ ڈالر قرض فراہم کیا، جب کہ گرانٹ سمیت مزید 7 کروڑ 22 لاکھ ڈالر کی معاونت بھی شامل ہے۔







