سالٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ بجلی، گیس اور ٹیکسوں کے بھاری بوجھ تلے دبی صنعت کے لیے روزانہ ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کاروباری منصوبہ بندی کو شدید متاثر کرے گا، پیداواری لاگت میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی اور مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ اسماعیل ستار کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی بات کرتی ہے، جب کہ دوسری جانب ایسے فیصلے کر رہی ہے جو صنعتوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گے۔
صنعتکاروں کے مطابق اگر صنعتیں بند ہوئیں تو حکومت کے لیے ٹیکس وصولی اور ریونیو اہداف کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا۔
New Podcast
— Transcripted.AI (@TranscriptedAI) July 21, 2026
Breaking Points
John Mearsheimer DIRE WARNING Of Global Economic Calamity
🤯 Middle East shipping chaos + historic-low inventories = rising risk of commodity price spikes & shortages? Chinese demand rebound adds pressure. Your take? #Commodities
Link in bio. pic.twitter.com/I5ClOxCEJN
انہوں نے کہا کہ نمک جیسی کم قیمت لیکن بھاری وزن رکھنے والی مصنوعات میں ٹرانسپورٹ لاگت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے روزانہ پیٹرولیم قیمتوں میں تبدیلی سپلائی چین اور قیمتوں کے تعین کو بری طرح متاثر کرے گی۔
ایسوسی ایشن نے تجویز دی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی روزانہ کے بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر کی جائے۔
دوسری جانب سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری سمیت دیگر کاروباری تنظیموں نے بھی اس پالیسی پر خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے برآمدی شعبہ عالمی منڈی میں مسابقت برقرار نہیں رکھ سکے گا، کیونکہ برآمدی معاہدے کئی ماہ پہلے طے کیے جاتے ہیں جب کہ پیداواری لاگت مسلسل تبدیل ہوتی رہے گی۔
ادھر آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل اور پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مجوزہ ڈیلی پرائسنگ میکانزم کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے مارکیٹ میں شفافیت بڑھے گی، قیمتیں عالمی رجحانات سے ہم آہنگ رہیں گی اور سپلائی چین کا نظام مزید مؤثر ہوگا۔







