10 جون کو پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ سے قبل سامنے آنے والی تجاویز ایک بار پھر اس سوال کو جنم دے رہی ہیں کہ آیا حکومت صحت کے شعبے کو قومی ترجیحات میں وہ مقام دے رہی ہے جس کا تقاضا موجودہ حالات کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ملک میں بنیادی صحت کے مراکز، جنہیں بیسک ہیلتھ یونٹس (BHUs) کہا جاتا ہے، کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔ اس کا اثر خاص طور پر دیہی اور دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں پر پڑتا ہے، جہاں معمولی طبی معائنے یا ابتدائی علاج کے لیے بھی لوگوں کو قریبی شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
طبی آلات پر ٹیکس اور بڑھتا ہوا علاجی بوجھ
صحت کے شعبے سے وابستہ حلقوں کی جانب سے ایک اور تشویش طبی آلات اور مشینری پر عائد ٹیکسوں کے حوالے سے سامنے آ رہی ہے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے محصولات سے متعلق اہداف پورے کرنے کے لیے درآمدی طبی آلات پر موجود سیلز ٹیکس برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان آلات میں دل کے امراض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے اسٹینٹس، ڈائیلاسز مشینری اور دیگر خصوصی طبی سامان شامل ہیں۔
طبی ماہرین اور ڈاکٹروں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جب طبی آلات کو عام تجارتی اشیا کی طرح ٹیکس نیٹ میں رکھا جاتا ہے تو اس کی اضافی لاگت بالآخر مریضوں تک منتقل ہو جاتی ہے۔
ان کے مطابق نجی ہسپتال، کلینکس اور تشخیصی مراکز بڑھتے ہوئے اخراجات
خود برداشت کرنے کے بجائے علاج اور طبی خدمات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور
ہوتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر متوسط اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔
حکومت کا مجوزہ صحتی ترقیاتی پروگرام
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے صحت کے شعبے میں تقریباً 22 سے 24.3 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز دی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق اس رقم سے 21 جاری اور 12 نئے وفاقی صحت منصوبوں کو فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
ان منصوبوں میں اسلام آباد کینسر ہسپتال کے لیے 1.29 ارب روپے، وزیر اعظم اینٹی ہیپاٹائٹس سی پروگرام کے لیے 1.5 ارب روپے، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کی جدید متعدی امراض لیبارٹری کے لیے ایک ارب روپے شامل ہیں۔
حکومتی مؤقف یہ ہے کہ یہ منصوبے ملک میں جدید طبی سہولیات، بیماریوں کی تشخیص اور تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
تاہم ناقدین کا سوال یہ ہے کہ جب بنیادی طبی ڈھانچہ ہی کمزور ہو تو بڑے اور خصوصی منصوبوں کے فوائد عام شہری تک کس حد تک پہنچ سکیں گے۔
عالمی معیار اور پاکستان کی صورتحال
صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے حوالے سے پاکستان کی صورتحال خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بھی کمزور سمجھی جاتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو بنیادی طبی خدمات کی فراہمی کے لیے اپنی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا کم از کم پانچ فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرنا چاہیے۔
پاکستان میں سرکاری سطح پر صحت پر ہونے والے اخراجات کئی برسوں سے تقریباً ایک سے 1.2 فیصد GDP کے درمیان رہے ہیں۔
صحت عامہ کے ماہرین کے مطابق اس کم سرمایہ کاری کے باعث نہ صرف ہسپتالوں اور طبی مراکز پر دباؤ بڑھتا ہے بلکہ بنیادی ادویات، حفاظتی ٹیکوں، زچہ و بچہ کی صحت اور دیہی علاقوں کی طبی سہولیات بھی متاثر ہوتی ہیں۔
علاقائی تقابلی جائزوں کے مطابق پاکستان میں فی کس صحت پر سرکاری خرچ
تقریباً 8 سے 10 ڈالر سالانہ بنتا ہے جبکہ جنوبی ایشیا کی اوسط اس سے نمایاں طور
پر زیادہ بتائی جاتی ہے۔
بجٹ کا بڑا حصہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟
صحت کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دستیاب فنڈز کا بھی ایک بڑا حصہ انتظامی اخراجات، تنخواہوں، عمارتوں کی دیکھ بھال اور یوٹیلٹی بلوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔
نتیجتاً مریضوں کے لیے مفت ادویات، طبی سامان، ہنگامی سہولیات اور براہِ راست علاج معالجے کے لیے مختص وسائل محدود رہ جاتے ہیں۔
اسی وجہ سے اکثر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو بنیادی ادویات اور تشخیصی ٹیسٹ اپنی جیب سے کروانے پڑتے ہیں۔
ترجیحات کا سوال
معاشی اور صحت پالیسی کے ماہرین کے نزدیک موجودہ صورتحال بنیادی طور پر وسائل کی کمی سے زیادہ ترجیحات کا مسئلہ ہے۔
ان کے مطابق ایک طرف بڑے خصوصی ہسپتالوں اور میگا منصوبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف بنیادی صحت کے مراکز، سستی ادویات اور عام مریض کی فوری ضروریات بدستور نظر انداز ہو رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صحت کے شعبے میں حقیقی بہتری مقصود ہے تو بجٹ سازی کے عمل میں بنیادی طبی سہولیات، دیہی صحت کے مراکز، حفاظتی صحت کے پروگراموں اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے علاج کی دستیابی کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔
ان کے مطابق جب تک صحت کو محض ایک ترقیاتی شعبے کے بجائے انسانی سرمایہ کاری کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، تب تک ہر نئے بجٹ کے باوجود عام پاکستانی کے لیے علاج معالجہ مہنگا اور مشکل ہی رہے گا۔







