برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ وہ ٹریڈ ایکٹ 1974 کی ایک شق کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ محصولات نافذ کر رہے ہیں، اور یہ نئے ٹیرف پہلے سے لاگو ٹیکسوں کے علاوہ وصول کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق یہ اقدام جزوی طور پر اُن 10 سے 50 فیصد تک کے ٹیرف کی جگہ لے گا جو 1977 کے ہنگامی معاشی اختیارات کے قانون کے تحت نافذ کیے گئے تھے، تاہم اعلیٰ عدالت نے انہیں غیر قانونی قرار دیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا کہ وہ تمام ممالک پر ٹیرف کے نفاذ کے حکم نامے پر دستخط کر چکے ہیں اور یہ فیصلے فوری طور پر لاگو ہوں گے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے ترجمان نے اس بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ بندرگاہوں پر غیر قانونی قرار دیے گئے سابقہ ٹیرف کی وصولی کب روکی جائے گی۔
امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ نیا 10 فیصد ٹیرف اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں و قومی سلامتی سے متعلق قوانین کے تحت ممکنہ اضافی محصولات مجموعی طور پر 2026 تک حکومت کو تقریباً وہی آمدنی فراہم کریں گے جو پہلے حاصل ہو رہی تھی۔ انہوں نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ مختلف ممالک کے لیے مجموعی ٹیرف کی سطح تقریباً سابقہ حد تک واپس لائی جائے گی، البتہ اس کا طریقۂ کار پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہوگا۔
🚨 President Donald J. Trump imposes a 10% global tariff on all countries. pic.twitter.com/42ZGDnMxbR
— The White House (@WhiteHouse) February 20, 2026
ان کا مزید کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے صدر کے تجارتی مذاکرات میں اثر و رسوخ پر کچھ حد تک اثر پڑا ہے۔ ایک ایسی قانونی شق بھی موجود ہے جسے تاحال استعمال نہیں کیا گیا، اور جس کے تحت صدر کو ادائیگیوں کے توازن میں شدید بگاڑ کی صورت میں 150 دن کے لیے تمام ممالک پر زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک ڈیوٹی عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس اختیار کے استعمال کے لیے کسی پیشگی تحقیقات یا اضافی ضابطہ جاتی تقاضوں کی ضرورت نہیں ہوتی، تاہم 150 دن کے بعد اسے برقرار رکھنے کے لیے کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس متبادل راستے موجود ہیں اور وہ انہیں مؤثر سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ممکن ہے مزید آمدنی حاصل ہو اور ملک معاشی طور پر مضبوط ہو۔ یہ 10 فیصد ٹیرف ابتدائی طور پر پانچ ماہ کے لیے نافذ رہیں گے، جبکہ اس عرصے کے دوران انتظامیہ مزید تحقیقات مکمل کر کے شرح میں اضافے کے امکانات کا جائزہ لے گی۔
ٹیرف میں ممکنہ اضافے سے متعلق سوال پر صدر کا کہنا تھا کہ شرح میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے، اور یہ مکمل طور پر امریکی مفادات اور پالیسی ترجیحات پر منحصر ہوگا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ بعض ممالک، جو ان کے بقول برسوں سے امریکہ کے ساتھ غیر منصفانہ برتاؤ کرتے آئے ہیں، زیادہ شرح کے ٹیرف کا سامنا کر سکتے ہیں، جبکہ دیگر کے لیے محصولات نسبتاً معتدل رکھے جائیں گے۔







