کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے مطالبہ کیا ہے کہ پہلی سہ ماہی کے ایڈوانس ٹیکس کی ادائیگی کی آخری تاریخ  10اکتوبر 2025 تک بڑھائی جائے۔

یہ مطالبہ ایسوسی ایشن نے ایف بی آر کے چیئرمین کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انفرادی ٹیکس دہندگان انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی شق 147 کے تحت اپنی قانونی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکے کیونکہ آئرس پورٹل مسلسل مسائل کا شکار رہا۔

ایسوسی ایشن کے مطابق ایف بی آر کا سسٹم ٹیکس دہندگان کو مقررہ تاریخ کی یاد دہانی تو کرا رہا تھا مگر پورٹل کی خرابیوں کے باعث اکثر افراد وقت پر ٹیکس جمع کرانے میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں اب ٹیکس دہندگان کو شق 138 کے تحت وصولی نوٹس موصول ہو رہے ہیں جن کے تحت جبری کارروائی، جرمانے، ڈیفالٹ سرچارج اور بینک اکاؤنٹس کی منسلکی جیسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کے ساتھ ہونے والی سابقہ ملاقاتوں میں بھی ان مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی تاہم اس کے باوجود سسٹم کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکی جس کا اثر نہ صرف ایڈوانس ٹیکس کی ادائیگی پر پڑا بلکہ سالانہ گوشوارے جمع کرانے کے عمل میں بھی شدید رکاوٹ پیدا ہوئی۔

Featured image (2) (6)
پورٹل کی خرابیوں کے باعث اکثر افراد وقت پر ٹیکس جمع کرانے میں ناکام رہے۔ (تصویر: جیو نیوز)

کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے زور دیا ہے کہ ایف بی آر فوری طور پر شق 138 کے تحت جاری کردہ تمام وصولی نوٹسز واپس لے اور انفرادی ٹیکس دہندگان کے خلاف جبری اقدامات روک دے جو مقررہ تاریخ کو سسٹم کی خرابیوں کے باعث ٹیکس ادا نہ کر سکے۔

واضع رہے کہ ایسوسی ایشن نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر تاریخ میں توسیع کر کے 10 اکتوبر 2025 کی نئی مہلت دے دی جائے تو ٹیکس دہندگان بغیر کسی اضافی چارج یا جرمانے کے اپنی ادائیگی مکمل کر سکتے ہیں۔

ابھی تک فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اس مطالبے پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم امکان ہے کہ آئندہ دنوں میں اس حوالے سے کوئی وضاحت یا فیصلہ جاری کیا جائے گا۔