ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دے، بصورت دیگر اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے گا۔

جنوبی کوریا کا مرکزی انڈیکس کوسپی 6.5 فیصد تک گر گیا، جب کہ جاپان کا نکی 225 انڈیکس 3.5 فیصد نیچے آ گیا۔ ہانگ کانگ میں ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔

آسٹریلیا کا اے ایس ایکس 200 انڈیکس 0.75 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا، جب کہ نیوزی لینڈ کا این زیڈ ایکس 50 انڈیکس 0.7 فیصد نیچے رہا۔

یورپی منڈیوں میں بھی مندی کا رجحان دیکھا گیا، جہاں لندن کا ایف ٹی ایس ای 100 ابتدائی کاروبار میں 1.4 فیصد گر گیا، جب کہ جرمنی کا ڈی اے ایکس 40 تقریباً 2 فیصد نیچے آ گیا۔

امریکا میں بھی وال اسٹریٹ کھلنے سے پہلے منفی رجحان دیکھا گیا، جہاں ایس اینڈ پی 500 سے منسلک فیوچرز تقریباً 0.8 فیصد نیچے ٹریڈ ہو رہے تھے۔

دوسری جانب تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ برینٹ کروڈ کی قیمت 0.6 فیصد اضافے کے ساتھ 112.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز بند رہی تو عالمی توانائی کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے اور تیل کی قیمتیں 150 سے 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔


امریکی صدر نے ہفتے کے روز ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ ختم نہ کی تو اس کے پاور پلانٹس کو مٹا دیا جائے گا۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتی ہے۔

ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ نہ صرف آبنائے ہرمز کو مکمل بند کر دے گا بلکہ خطے میں توانائی اور پانی کے انفراسٹرکچر پر جوابی حملے بھی کرے گا۔

رپورٹس کے مطابق محدود تعداد میں چینی، بھارتی اور پاکستانی پرچم بردار جہاز اب بھی اس راستے سے گزر رہے ہیں۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو تقریباً ایک ماہ ہو چکا ہے، اور اس کے خاتمے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ اس جنگ کے آغاز سے اب تک تیل کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔

اتوار کو صدر ٹرمپ نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی توانائی منڈی کے استحکام کے لیے آبنائے ہرمز کو کھولنا ناگزیر ہے۔

ادھر امریکی صدر کی جانب سے جنگ کے مقاصد اور دورانیے کے حوالے سے متضاد بیانات بھی سامنے آئے ہیں، جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کم از کم مزید تین ہفتے جاری رہ سکتی ہے۔