واک ایف-6 مرکز سے شروع ہو کر نیشنل پریس کلب اسلام آباد پر اختتام پذیر ہوئی۔ شرکاء نے تعلیم کے حق، خواندگی کے فروغ اور اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے حق میں نعرے لگائے۔ اس موقع پر مختلف مطالبات پر مشتمل بینرز اور پلے کارڈز کے ذریعے حکومت سے فوری عملی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان میں 26 ملین بچوں کا اسکول سے باہر ہونا ایک انتہائی سنگین قومی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے محض اعلانات نہیں بلکہ ٹھوس، مستقل اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-A پر اس کی روح کے مطابق مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور پاکستان نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف SDG-4 کے تحت جو تعلیم سے متعلق وعدے کیے ہیں انہیں پورا کیا جائے۔

مقررین کا کہنا تھا کہ اسکول سے باہر بچوں کی ایک بڑی تعداد چائلڈ لیبر کا شکار ہے، جبکہ کئی علاقوں میں بچوں کی تعداد کے مقابلے میں اسکولوں اور تربیت یافتہ اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کو حقیقی معنوں میں ایمرجنسی قرار دے، اس مقصد کے لیے مطلوبہ مالی وسائل مختص کرے اور بڑی تعداد میں تربیت یافتہ انسانی وسائل تیار کرے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے آج اسکول سے باہر 26 ملین بچوں کے مسئلے کو حل نہ کیا تو یہ بچے کل 26 ملین ناخواندہ اور غیر ہنر مند خاندانوں کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ ناخواندہ اور غیر ہنر مند نوجوان نہ صرف معاشی مواقع سے محروم رہتے ہیں بلکہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں اور جرائم کے لیے آسان ہدف بھی بن سکتے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ ہر بچے کو اسکول تک پہنچانا صرف تعلیم کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل، معیشت، امن اور سماجی استحکام کا مسئلہ ہے۔ حکومت، نجی شعبے، سول سوسائٹی، تعلیمی اداروں اور عوام کو مل کر اس قومی چیلنج کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
واک کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کا کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہیں رہنا چاہیے اور ملک میں 100 فیصد بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اجتماعی کوشیں جاری رکھی جائیں گی۔







