آج پاکستان کا عام آدمی مہنگائی کے جس عذاب سے گزر رہا ہے، شاید اس کا اندازہ ان ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو نہیں جہاں فیصلے فائلوں پر کیے جاتے ہیں اور جن کے اخراجات عام آدمی کی زندگی سے کہیں مختلف ہیں۔

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکمران شاید صرف ایک عدد بڑھتا ہوا دیکھتے ہیں، مگر اس ایک عدد کے پیچھے کروڑوں پاکستانیوں کی زندگی کا بجٹ بکھر جاتا ہے۔

پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی کا پہیہ مہنگا نہیں گھومتا، زندگی کا پہیہ مہنگا ہو جاتا ہے۔

ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھتے ہیں، سبزی اور پھل مہنگے ہوتے ہیں، دودھ مہنگا ہوتا ہے، اشیائے خورونوش کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں۔ مزدور کی محدود آمدن وہیں کھڑی رہتی ہے، مگر اس کے اخراجات ہر روز آگے بڑھتے جاتے ہیں۔

ایک باپ اپنے بچوں کی فیس دیکھتا ہے، بجلی کا بل دیکھتا ہے، راشن کی فہرست دیکھتا ہے، پٹرول کا خرچ دیکھتا ہے اور پھر خاموشی سے سوچتا ہے کہ آخر کس خرچ کو کم کرے؟ بچے کی فیس کم کرے یا دودھ؟ دوائی خریدے یا راشن؟ کام پر جانے کے لیے پٹرول ڈلوائے یا گھر کا چولہا جلائے؟

یہ وہ سوالات ہیں جو آج پاکستان کے لاکھوں گھروں میں پوچھے جا رہے ہیں۔ لیکن اقتدار کے ایوانوں میں شاید کسی کو یہ سوال سنائی نہیں دیتا اور اگر کوئی سنانے کی کوشش کرے تو ہماری اجتماعی بے حسی ایک اور تماشا شروع کر دیتی ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف اگر کوئی سیاسی جماعت سڑک پر نکلتی ہے، حکومت سے سوال کرتی ہے اور عوامی احتجاج کرتی ہے تو ہم حکومت سے جواب طلب کرنے کے بجائے احتجاج کرنے والے کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔

جماعت اسلامی احتجاج کرتی ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ یہ سیاسی ڈرامہ ہے۔ بھائی! اگر یہ سیاسی ڈرامہ ہے تو پیٹرول کی قیمت بڑھانا کیا ہے؟ اگر عوام کے حق میں آواز اٹھانا سیاست ہے تو پھر عوام کے ووٹ لینے والے سیاست دان آخر کس لیے ہیں؟

اختلاف ضرور کریں۔ سیاسی اختلاف آپ کا حق ہے۔ جماعت اسلامی کی پالیسیوں سے اختلاف کریں، اس کی قیادت سے اختلاف کریں، اس کے سیاسی کردار پر تنقید کریں۔ مگر کم از کم عوام کے بنیادی مسائل پر ہونے والے احتجاج کو اپنی سیاسی نفرت کی بھینٹ تو نہ چڑھائیں۔

پٹرول کسی جماعت کا ہی کارکن نہیں خریدتا۔ ہم سب خریدتے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی کسی سیاسی جماعت کی جیب سے نہیں جاتی۔ ہم سب کی جیب سے جاتی ہے۔ مہنگائی کسی پارٹی کے دفتر کا بجٹ نہیں بگاڑتی۔ آپ سب کے گھر کا بجٹ بگاڑتی ہے۔

پھر اتنی خاموشی کیوں؟ یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، عوام سے بھی ہے۔ ہم کب تک سوشل میڈیا پر دو دن غصہ نکال کر سمجھتے رہیں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا؟ ہم کب تک ہر مسئلے کو سیاسی عینک سے دیکھتے رہیں گے؟

ہم کب تک یہ طے کرنے میں مصروف رہیں گے کہ احتجاج کرنے والا ہمارا ہے یا مخالف؟ کیا ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کہ احتجاج کس مسئلے پر ہو رہا ہے؟ اگر مسئلہ آپ کا ہے تو آواز کسی کی بھی ہو، اسے سننا ہوگا۔

یہ عجیب المیہ ہے کہ حکومت پیٹرول مہنگا کرتی ہے اور عوام آپس میں لڑنے لگتے ہیں۔ حکومت ٹیکس بڑھاتی ہے اور ہم سیاسی جماعتوں کے کارکن بن کر ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہیں۔ حکمران اپنے فیصلے کرتے رہتے ہیں اور عوام اپنے ہی درمیان تقسیم ہو کر ان فیصلوں کو آسان بنا دیتے ہیں۔

یاد رکھیے، حکومتیں صرف طاقت سے نہیں چلتیں، عوام کی خاموشی بھی انہیں طاقت دیتی ہے۔ جب حکمران دیکھتے ہیں کہ قیمت بڑھانے کے بعد چند دن شور ہوگا اور پھر سب خاموش ہو جائیں گے، تو انہیں اگلا اضافہ کرنے سے خوف کیوں ہوگا؟ جب عوام ہر ظلم کو یہ کہہ کر برداشت کر لیں کہ "ہم کیا کر سکتے ہیں؟" تو پھر ظلم معمول بن جاتا ہے۔

یہی وقت ہے کہ ہم خود سے ایک سوال کریں کہ کیا ہم واقعی بے بس ہیں یا صرف بے حس ہو چکے ہیں؟ ہم حکومت سے سوال کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے نمائندوں سے جواب مانگ سکتے ہیں۔ ہم پرامن احتجاج کر سکتے ہیں۔

ہم اپنی آواز بلند کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے ووٹ کی طاقت کو سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن سب سے پہلے ہمیں اپنی سیاسی وابستگیوں سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ آج اگر جماعت اسلامی پٹرول کی قیمتوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے تو اس کے سیاسی مفادات پر بحث بعد میں بھی ہو سکتی ہے۔ پہلے یہ دیکھیں کہ مطالبہ عوام کے حق میں ہے یا نہیں۔

اگر مطالبہ درست ہے تو صرف اس لیے مخالفت نہ کریں کہ آواز آپ کی پسندیدہ جماعت کی نہیں۔ کیونکہ مہنگائی کو آپ کی پارٹی کا جھنڈا نظر نہیں آتا۔ مہنگائی جب گھر میں داخل ہوتی ہے تو یہ نہیں پوچھتی کہ آپ مسلم لیگ کے حامی ہیں، تحریک انصاف کے، جماعت اسلامی کے یا کسی اور جماعت کے۔

وہ سب سے بل وصول کرتی ہے۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ ہم شخصیتوں اور جماعتوں سے نکل کر مسائل پر بات کریں۔ حکومت سے پوچھیں کہ عوام پر مزید بوجھ کیوں؟ پیٹرول پر مزید ٹیکس کیوں؟ عام آدمی کے لیے ریلیف کہاں ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کو مسلسل قربانی کا بکرا کب تک بنایا جائے گا؟

حکمرانوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام کی برداشت کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی خاموشی صرف اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ انسان اپنے حالات سے لڑتے لڑتے تھک چکا ہے۔

اور عوام کو بھی سمجھنا ہوگا کہ اگر آج ہم نے اپنے حق کے لیے آواز نہ اٹھائی تو کل شکایت کرنے کا حق بھی کمزور پڑ جائے گا۔ پیٹرول مہنگا ہوتا رہے اور ہم خاموش رہیں، یہ صرف حکومت کی کامیابی نہیں، ہماری ناکامی بھی ہے۔

اس لیے حکومت سے بھی سوال ہونا چاہیے اور خود سے بھی۔ اور عوام! اب بھی نہ جاگے تو پھر کب جاگو گے؟ کیونکہ مسئلہ صرف پیٹرول کی قیمت نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کیا اس ملک میں عام آدمی کی زندگی کی بھی کوئی قیمت ہے؟

تحریر: فرید رزاقی

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر