نانا پاٹیکر کا اصل نام وشوناتھ پاٹیکر تھا۔ وہ جنوری 1951 میں ریاست مہاراشٹرا کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کپڑوں کی رنگائی کا کاروبار کرتے تھے، تاہم جب نانا پاٹیکر 13 برس کے تھے تو ان کے والد کے کاروباری شریک نے مبینہ طور پر دھوکا دے کر پورا کاروبار اپنے نام کرلیا۔

یہ واقعہ ان کے خاندان کے لیے مشکلات کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوا۔ نانا پاٹیکر تعلیم کے ساتھ ساتھ گزر بسر کے لیے مختلف چھوٹے موٹے کام بھی کرتے رہے۔ کبھی سڑکوں پر زیبرا کراسنگ پینٹ کرتے تو کبھی تھیٹر کے پوسٹر بناتے۔

جوانی میں قدم رکھا تو والد کا انتقال ہوگیا۔ آرٹ سے دلچسپی کے باعث انہوں نے بعدازاں ممبئی کے جے جے اسکول آف آرٹس سے ڈپلومہ کیا اور کچھ عرصے تک ایک اشتہاری ادارے میں کمرشل آرٹسٹ اور خاکہ نویس کے طور پر بھی کام کیا۔

یہاں تک کہ نانا پاٹیکر نے ممبئی پولیس کے لیے مجرموں کے خاکے بنانے کا کام بھی کیا۔ وہ اکثر اپنے انٹرویوز میں اپنی زندگی کے مشکل دور کا ذکر کرتے ہوئے کہتے تھے کہ انہیں اداکاری کسی اسکول نے نہیں بلکہ بھوک اور سڑکوں کی غربت نے سکھائی۔

نانا پاٹیکر نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1978 میں فلم ’گمن‘ سے کیا، تاہم انہیں حقیقی شہرت فلم ’پرندہ‘ میں جنونی گینگسٹر ’انا‘ کے کردار سے ملی۔ اس کردار پر انہیں بہترین معاون اداکار کا نیشنل ایوارڈ بھی دیا گیا۔

ان کا فلمی سفر تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط رہا۔ ’کرانتی ویر‘، ’اب تک چھپن‘ اور ’راستے‘ سمیت متعدد فلموں میں انہوں نے اپنی سنجیدہ اور سخت کرداروں والی اداکاری سے منفرد مقام بنایا، جب کہ ’ویلکم‘ میں ’ادے شیٹی‘ کا کردار ادا کرکے ناظرین کو بھرپور تفریح بھی فراہم کی۔

نانا پاٹیکر نے اداکاری کے میدان میں متعدد بڑے اعزازات حاصل کیے اور انہیں انڈین حکومت کی جانب سے پدما شری سے بھی نوازا گیا۔

نانا پاٹیکر کی زندگی کا ایک اہم ترین پہلو ان کا سماجی کام تھا۔ مہاراشٹرا میں خشک سالی کے دوران جب کسان مالی مشکلات اور خودکشیوں جیسے سنگین مسائل کا شکار تھے تو نانا پاٹیکر نے کسانوں کی مدد کے لیے نام فاؤنڈیشن قائم کی۔

فاؤنڈیشن کی سرگرمیاں صرف مالی امداد تک محدود نہیں رہیں بلکہ پانی کے منصوبوں، کاشتکاری کے آلات، بیجوں کی فراہمی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی گئی۔

فاؤنڈیشن کی جانب سے 100 سے زائد ندیوں کی صفائی اور مختلف علاقوں میں جھیلوں کی تعمیر کے منصوبوں پر بھی کام کیا گیا، جب کہ کسانوں کی بیواؤں کو سلائی مشینیں اور روزگار کے دیگر مواقع فراہم کیے گئے۔

فاؤنڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق خودکشی کرنے والے کسانوں کی تقریباً 5 ہزار بیواؤں کو براہِ راست مالی امداد فراہم کی گئی۔

اسی طرح پانی کے منصوبوں، زرعی آلات اور بیجوں کی تقسیم سمیت مختلف اقدامات سے اب تک 77 لاکھ سے زائد کسان اور ان سے وابستہ خاندان مستفید ہوچکے ہیں۔

نانا پاٹیکر کی زندگی اس اعتبار سے بھی منفرد رہی کہ جس شخص نے اپنی نوجوانی میں غربت اور بھوک کا سامنا کیا، اسی نے شہرت حاصل کرنے کے بعد اپنی توجہ ان لوگوں کی طرف موڑ دی جو معاشی مشکلات سے دوچار تھے۔

پردے پر اپنی کڑک دار آواز، سخت لہجے اور طاقتور کرداروں کے لیے مشہور نانا پاٹیکر نے حقیقی زندگی میں کسانوں، ان کی بیواؤں اور ضرورت مند افراد کی مدد کے لیے اپنی شہرت اور وسائل استعمال کیے۔

8 اکتوبر 2026 کو 75 برس کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے نانا پاٹیکر کے انتقال کی خبر سامنے آئی۔

وہ ایک ایسے فنکار کے طور پر یاد رکھے جائیں گے جس کی آواز اور اداکاری نے پردے پر اپنی دھاک بٹھائی، لیکن حقیقی زندگی میں ان کا دل غریبوں، کسانوں اور بے سہارا افراد کے لیے نرم رہا۔