’کمشنر کپ ڈونکی کارٹ ریس‘ کے نام سے ہونے والی اس دلچسپ دوڑ کا آغاز بندرگاہ کے قریب نیٹی جیٹی برج سے ہوا، جبکہ شرکا نے تقریباً 5 سے 6 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے کمشنر کراچی کے دفتر تک پہنچنے کا مقابلہ کیا
ریس میں گدھوں کے ساتھ ہلکی پھلکی دو پہیوں والی گاڑیاں استعمال کی گئیں، جن پر ایک ایک سوار موجود تھا۔ شرکا نے تیز رفتاری کے ساتھ اپنے گدھوں کو منزل کی جانب دوڑایا، جس سے سڑک پر ایک منفرد منظر دیکھنے کو ملا
ریس کے اختتام پر ایک فاتح سوار نے خوشی کے عالم میں اپنے گدھے کو دونوں بازوؤں سے گلے لگا لیا۔ کامیابی کے اس لمحے کی تصویر نے سوشل میڈیا اور میڈیا حلقوں کی توجہ حاصل کرلی
ریس کے دوران بعض سوار گاڑی پر جھک کر بیٹھے نظر آئے جبکہ کچھ نے کھڑے ہوکر گدھے کو قابو میں رکھا۔ دو پہیوں والی ہلکی گاڑیوں اور تیز رفتار گدھوں کے باعث مقابلے کا منظر انتہائی دلچسپ دکھائی دیا
کراچی میں گدھا گاڑیاں محض تفریح یا ثقافتی سرگرمی تک محدود نہیں بلکہ شہر کے کئی علاقوں میں آج بھی روزمرہ معاشی سرگرمیوں کا حصہ ہیں
گدھے طویل عرصے سے تعمیراتی سامان، زرعی پیداوار، کچرا اور دیگر اشیا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ خصوصاً تنگ گلیوں، بازاروں اور ایسے مقامات پر جہاں بڑی گاڑیوں کا پہنچنا مشکل ہوتا ہے، گدھا گاڑیوں سے سامان کی ترسیل کی جاتی ہے
شہر میں جدید ٹرانسپورٹ اور گاڑیوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود گدھا گاڑیاں اب بھی بعض کم آمدنی والے طبقوں کے لیے روزگار اور آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں
کمشنر کپ گدھا گاڑی ریس کا انعقاد پاکستان کے یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں کیا گیا۔ منتظمین کی جانب سے روایتی سرگرمی کو جشنِ آزادی کا حصہ بنا کر شہریوں کو ایک منفرد تفریح فراہم کی گئی
ریس کے دوران شرکا نے قومی جذبے کے ساتھ حصہ لیا، جبکہ شہریوں نے بھی سڑکوں کے اطراف کھڑے ہوکر مقابلہ دیکھا اور شرکا کی حوصلہ افزائی کی
کراچی میں ہونے والی یہ منفرد ریس نہ صرف یومِ آزادی کی تقریبات کا دلچسپ حصہ بنی بلکہ اس نے شہر کی قدیم معاشی اور ثقافتی روایت کی بھی ایک جھلک پیش کی، جہاں گدھے آج بھی کئی خاندانوں کے روزگار اور شہری نقل و حمل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔







