ڈرامہ شفیعہ خان نے لکھا ہے، اس کی ہدایت کاری اسد جبل نے کی ہے جب کہ اسے اسد قریشی اور عبداللہ کدوانی نے سیونتھ اسکائی انٹرٹینمنٹ کے بینر تلے پروڈیوس کیا ہے۔

’محبت‘ کی کہانی یحییٰ اور زرار نامی دو بھائیوں کے گرد گھومتی ہے، جن کا رشتہ مختلف حالات اور خاندانی معاملات کے باعث آزمائش سے گزرتا ہے۔ ڈرامے میں محبت، طبقاتی فرق، اعتماد، رشتوں اور خاندانی تعلقات کو کہانی کا حصہ بنایا گیا ہے۔

شاہویر کدوانی کون ہیں؟

شاہویر کدوانی پاکستانی اداکار ہیں اور معروف پروڈیوسر عبداللہ کدوانی کے بیٹے ہیں۔ وہ اس سے قبل بھی ٹیلی ویژن پر نظر آچکے ہیں اور ’سن میرے دل‘ سمیت دیگر پروجیکٹس کا حصہ رہ چکے ہیں۔ ’محبت‘ میں وہ ایک اہم کردار میں اداکاری کر رہے ہیں۔

شاہویر کدوانی کا ’محبت‘ میں مرکزی نوعیت کا کردار سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر ان کی اداکاری کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانی پس منظر پر بھی بحث شروع ہوگئی۔

ڈرامے کے ٹیزرز سے ہی بعض صارفین شاہویر کدوانی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے تھے، جب کہ پہلی قسط نشر ہونے کے بعد یہ بحث مزید تیز ہوگئی۔ بعض سوشل میڈیا صارفین نے انہیں ’سفارشی‘ قرار دیا، جب کہ کچھ نے سوال اٹھایا کہ انہیں اتنے اہم کردار کے لیے کیوں منتخب کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر شاہویر کدوانی کی اداکاری کا موازنہ انڈین اداکار ارجن کپور سے بھی کیا گیا۔ فیسبک پر اسد رضوی نامی صارف نے لکھا کہ اس سے اچھی ایکٹنگ تو ارجن کپور کرلیتا ہے۔

یہ صرف ایک تبصرہ نہیں، بلکہ ڈرامے کی پہلی قسط کے بعد یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شاہویر کدوانی کی اداکاری سے متعلق مختلف قسم کے تبصرے سامنے آئے۔

ایک صارف نے یوٹیوب کمنٹ سیکشن میں طنزیہ انداز میں لکھا کہ زرار کے لیے کوئی ایسا سین لکھو کہ اسے گولی لگے اور وہ مر جائے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ’بھائی کوئی زرار کو ڈرامے سے نکالو، اس سے زیادہ ہیوی تو اس کے ڈائیلاگز ہیں۔‘

یوٹیوب پر ایک صارف نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’یار یہ شاہویر سے زیادہ بہتر ایکٹنگ تو اسکول کی ہے، مطلب یہ تو زیرو ایکسپریشن کے ساتھ زیرو ایکٹنگ ہے۔‘

سعد نامی یوٹیوب اکاؤنٹ سے ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ زرار کوئی نیپوکڈ ہے کیا؟ ایکٹنگ کی اے بھی اسے نہیں آتی، افف اتنی اوور ایکٹنگ! یہ کوئی بالی ووڈ مووی چل رہی ہے کیا؟‘

بخت علی نامی یوٹیوب اکاؤنٹ کی جانب سے تبصرہ کیا گیا کہ ’زرار کا تو منھ ہی ٹیڑھا ہے، لگتا ہے کوئی تگڑی سفارش ہے۔‘

شاہویر کدوانی پر ہونے والی تنقید میں ایک بڑا حصہ ان کے اداکاری کے انداز سے متعلق ہے، تاہم بعض صارفین نے ان کے والد عبداللہ کدوانی کے پروڈیوسر ہونے کو بھی بحث کا موضوع بنایا ہے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے یہ تاثر دیا کہ انہیں ’محبت‘ میں اہم کردار خاندانی تعلق کی وجہ سے ملا، جب کہ دیگر صارفین نے اس تاثر کو اپنی تنقید کا مرکز بنایا۔ تاہم یہ سوشل میڈیا صارفین کے تبصرے اور الزامات ہیں، جنہیں کسی آزاد ذریعے سے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب ’محبت‘ ابھی اپنی ابتدائی اقساط میں ہے اور زرار کا کردار بھی کہانی کے آگے بڑھنے کے ساتھ مزید مختلف مراحل سے گزر سکتا ہے۔ ایسے میں شاہویر کدوانی کی اداکاری کے بارے میں ناظرین کی رائے بھی آنے والی اقساط کے ساتھ تبدیل ہوسکتی ہے۔

فی الحال صورتحال یہ ہے کہ ڈرامے کی کہانی سے زیادہ زرار کا کردار اور اسے ادا کرنے والے شاہویر کدوانی سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئے ہیں، جہاں کہیں ان کی اداکاری پر سوال اٹھائے جارہے ہیں تو کہیں ان کے خاندانی پس منظر کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ’محبت‘ کی ابتدائی اقساط کے ساتھ ایک سوال بھی سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے کہ کیا زرار کا کردار وقت کے ساتھ ناظرین کو پسند آئے گا یا شاہویر کدوانی پر ہونے والی تنقید مزید بڑھ جائے گی؟