کاسترو نے تقریباً 4 گھنٹے 29 منٹ تک خطاب کیا اور جنرل اسمبلی کی ریکارڈ شدہ تاریخ کی طویل ترین تقریر کر ڈالی۔
لیکن اقوام متحدہ میں طویل تقاریر کرنے والے عالمی رہنماؤں کی فہرست صرف فیڈل کاسترو تک محدود نہیں۔
1960 میں گِنی کے صدر احمد سیکو ٹورے نے تقریباً 2 گھنٹے 24 منٹ تک خطاب کیا، جبکہ سوویت یونین کے رہنما نکیتا خروشیف کی تقریر تقریباً 2 گھنٹے 20 منٹ جاری رہی۔
اسی سال انڈونیشیا کے صدر سوکارنو نے بھی تقریباً 2 گھنٹے ایک منٹ تک جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔
کئی برس بعد، 2009 میں لیبیا کے رہنما معمر قذافی نے تقریباً 96 منٹ تک خطاب کیا اور اقوام متحدہ میں اپنی طویل تقریر کے باعث بھی نمایاں ہوئے۔
یہاں ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے۔ ان طویل ترین تقاریر میں سے چار 1960 ہی میں ہوئیں۔ اور اس کے پیچھے ایک تاریخی پس منظر بھی تھا۔
1960 کو تاریخ میں “افریقہ کا سال” کہا جاتا ہے۔ اسی سال 17 افریقی ممالک نے نوآبادیاتی حکمرانی سے آزادی حاصل کی۔ ان میں سے کئی نئے آزاد ممالک اقوام متحدہ کا حصہ بھی بنے۔
اس تبدیلی نے جنرل اسمبلی کی سیاسی اور جغرافیائی ساخت کو تیزی سے بدل دیا۔ وہ ادارہ جو پہلے بڑی حد تک نوآبادیاتی طاقتوں کے زیرِ اثر سمجھا جاتا تھا، اب نئے آزاد ممالک کی بڑھتی ہوئی آوازوں کا مرکز بن رہا تھا۔
لیکن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تاریخ صرف طویل تقاریر اور عالمی سیاست تک محدود نہیں۔ یہاں ایک ایسا ہتھوڑا بھی موجود ہے جس کی اپنی دلچسپ کہانی ہے۔ اسے “آئس لینڈک گیول” کہا جاتا ہے۔
جنرل اسمبلی کی کارروائی میں استعمال ہونے والا یہ گیول آئس لینڈ کی تقریباً ایک ہزار سال پرانی پارلیمانی روایت سے متاثر ہے۔ آئس لینڈ نے یہ گیول 1952 میں اقوام متحدہ کو تحفے میں دیا تھا۔
مگر تقریباً آٹھ سال بعد، 1960 میں، یہ گیول ایک غیر معمولی واقعے میں ٹوٹ گیا۔
کولڈ وار کے دور کے ایک انتہائی گرم اور کشیدہ اجلاس کے دوران جنرل اسمبلی کے صدر نے کارروائی کو قابو میں رکھنے کے لیے گیول میز پر اتنی زور سے مارا کہ وہ ٹوٹ گیا۔ بعد میں اس کی جگہ نیا گیول تیار کیا گیا۔
موجودہ گیول مضبوط ناشپاتی کی لکڑی سے بنایا گیا ہے اور اسے 2005 میں اقوام متحدہ کو پیش کیا گیا تھا۔
یوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تاریخ میں ایک طرف وہ تقاریر ہیں جو گھنٹوں جاری رہیں، تو دوسری طرف ایک ایسا ہتھوڑا بھی ہے جو ایک شدید سیاسی بحث کے دوران خود خاموش ہوگیا۔
یہ واقعات یاد دلاتے ہیں کہ اقوام متحدہ صرف قراردادوں، ووٹنگ اور سفارت کاری کا نام نہیں، بلکہ اس کی اپنی ایک دلچسپ سیاسی اور تاریخی روایت بھی ہے۔







