پاکستان اور انڈیا میں یکساں مقبول نصرت فتح علی خان نے اپنے طویل فنی سفر کے دوران عارفانہ کلام، غزلوں، گیتوں اور قوالیوں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان بنائی اور انہیں متعدد ملکی و عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔
شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان نے 13 اکتوبر 1948 کو فیصل آباد کے ایک معروف قوال گھرانے میں آنکھ کھولی۔ انہوں نے کم عمری میں ہی قوالی کا فن سیکھنا شروع کیا اور بعد ازاں قوالی کے ساتھ غزل، کلاسیکل اور صوفی موسیقی میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
نصرت فتح علی خان صوفیانہ کلام کو اپنی منفرد آواز اور انداز میں اس مہارت سے پیش کرتے تھے کہ سننے والے وجد میں آ جاتے۔ انہوں نے مغربی سازوں کو قوالی میں شامل کرکے اس صنفِ موسیقی کو ایک نئی جہت بھی دی۔
ان کی مقبول قوالیوں میں ’دم مست قلندر علی علی‘، ’اللہ ہو‘، ’تم اک گورکھ دھندا ہو‘، ’یہ جو ہلکا ہلکا سرور ہے‘، ’کسی دا یار نہ وچھڑے‘ اور ’وہی خدا ہے‘ سمیت کئی کلام آج بھی شائقین میں مقبول ہیں۔
نصرت فتح علی خان کی قوالی کے 125 سے زائد آڈیو البمز جاری ہوئے، جب کہ ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی شامل کیا گیا۔ انہیں صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی سمیت متعدد ملکی اور عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔
نصرت فتح علی خان 16 اگست 1997 کو لندن کے ایک اسپتال میں دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے، تاہم ان کی آواز، قوالیاں اور فن آج بھی دنیا بھر میں انہیں زندہ رکھے ہوئے ہیں۔







