بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر سنہ 2015 تک روحان جیسے 51,549 افراد کے لیے زندگی ایک المیہ بنی ہوئی تھی۔ دونوں ملکوں کے درمیان 162 محصور علاقے یا ’انکلیوز‘ موجود تھے، جن میں سے 111 بھارتی علاقے بنگلہ دیش کے اندر اور 51 بنگلہ دیشی علاقے بھارت کی حدود میں تھے۔ اگر روحان کے گھر میں کوئی بیمار ہو جاتا تو وہ علاج کے لیے اسپتال نہیں جا سکتا تھا اور چوری ہونے پر پولیس کو نہیں بلا سکتا تھا، کیونکہ ان کے اپنے ملک کا انتظام دوسرے ملک کے پار میلوں دور واقع تھا۔

اس المیے کی سب سے بڑی مثال ’دہگرام‘ اور ’انگارپوٹا‘ کے علاقے تھے، جو تھے تو بنگلہ دیش کا حصہ لیکن چاروں طرف سے بھارتی سرحد سے گھیرے ہوئے تھے۔ ان بدقسمت باشندوں کو اپنے ملک کی سرزمین سے جوڑنے کے لیے صرف ایک تنگ پٹی میسر تھی، جسے ’تین بیگھہ راہداری‘ کہا جاتا تھا۔ دہائیوں پر محیط اس تنہائی اور ذلت کے بعد بالآخر سنہ 2015 میں اراضی کا تبادلہ ہوا اور سرحدی لکیروں کو سیدھا کیا گیا۔ سنہ 2016 کے انتخابات میں جب روحان اور اس کے ساتھیوں نے زندگی میں پہلی بار اپنا ووٹ ڈالا تو انہیں احساس ہوا کہ ریاست کاغذی حدود کا نام نہیں بلکہ ان کی شناخت اور وجود کی ضامن ہوتی ہے۔

اگر بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر روحان کی کہانی انتظامی بے حسی کا شاہکار تھی تو آگے چلیے، کیونکہ دنیا میں دو پڑوسی ملک ایسے بھی ہیں جن کے درمیان باقاعدہ فائرنگ اور خونریز جنگ کی شروعات کسی زمین پر قبضے سے نہیں بلکہ نہر کے واٹر پمپ پر لگے ایک معمولی سے کیمرے کی وجہ سے ہوئی۔

اپریل 2021 میں کرغزستان اور تاجکستان کی سرحد پر ایک تنازع ہوا، جس کی بنیادی جڑیں 1991 میں سوویت یونین کے زوال میں چھپی ہوئی تھیں۔ سوویت دور میں دونوں ملک ایک ہی چھت تلے قائم تھے اور نہریں، سڑکیں اور چراگاہیں سب سانجھی ہوا کرتی تھیں۔

لیکن جب سوویت یونین ٹوٹا تو انتظامی لکیریں راتوں رات بین الاقوامی سرحدیں بن گئیں اور وہ بھی ایسی سرحدیں جن کا آدھا حصہ نقشے پر واضح ہی نہیں تھا۔ اس صورتحال میں ہوتا یہ تھا کہ اگر ایک ملک کا کسان اپنے کھیت کو سیراب کرنے کے لیے نہر کا رخ موڑتا تو دوسرے ملک کے گاؤں کا پانی بند ہو جاتا۔ اپریل 2021 کی ایک دوپہر تاجکستان کے حکام نے سرحدی واٹر پمپ پر پانی کی تقسیم کی مانیٹرنگ کے لیے ایک کیمرہ نصب کر دیا۔ کرغزستان کے مقامی لوگوں کو لگا کہ اس کیمرے کے ذریعے ان کی جاسوسی کی جا رہی ہے۔ بات پہلے تلخ کلامی سے شروع ہوئی، پھر پتھراؤ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں اطراف کے سرحدی محافظوں نے اپنی بندوقیں نکال لیں۔

چند ہی گھنٹوں کے اندر یہ مقامی جھگڑا ایک باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو گیا۔ سرحد پر فوجیں پہنچ گئیں، بھاری فائرنگ شروع ہوئی، درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں گھرانے اپنا مال و اسباب چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ صرف ایک کیمرے اور نہر کے پانی سے شروع ہونے والی یہ خونریز کشیدگی اتنی سنگین تھی کہ دونوں ممالک کو سرحدی معاملات سلجھانے کے لیے 4 سال تک مسلسل مذاکرات کرنے پڑے اور بالآخر مارچ 2025 میں جا کر ان کے درمیان حتمی سرحدی معاہدہ طے پایا۔

پانی کے کیمرے پر لڑنے والے ان دو ملکوں سے کہیں زیادہ بھیانک المیہ افریقہ کے خطے میں اریٹیریا اور ایتھوپیا کی جنگ کا تھا، جہاں کسی معاشی فائدے یا زرخیز خطے کے لیے نہیں بلکہ ایک بالکل بنجر، بیکار اور پتھریلی اراضی کے ٹکڑے کے لیے ایک لاکھ انسانوں کو خندقوں میں بھون دیا گیا۔

اریٹیریا اور ایتھوپیا نے تقریباً 30 سال مل کر آزادی کی جنگ لڑی تھی۔ دونوں ملک اتنے گہرے دوست اور اتحادی تھے کہ انہوں نے 1,000 کلومیٹر لمبی باہمی سرحد کی کبھی باقاعدہ حد بندی ہی نہیں کی تھی اور نوآبادیاتی دور کے پرانے نقشوں پر ہی بھروسہ کرتے رہے۔ 1991 میں جب ایتھوپیا کے آمر منگیستو ہائل مریم کی حکومت کا تختہ الٹا تو اریٹیریا کے گوریلا رہنماؤں اور ایتھوپیا کے باغیوں نے مل کر کام کیا۔ دونوں ممالک کے رہنما ایتھوپیا کے میلس زیناوی اور اریٹیریا کے اسیاس افورکی دوست اور سیاسی اتحادی تصور کیے جاتے تھے۔

ان کے درمیان ’بادمے‘ کا علاقہ صرف پتھریلی زمین پر مشتمل تھا، جس کی بظاہر کوئی معاشی اہمیت نہیں تھی۔

لیکن سنہ 1997 میں اریٹیریا نے ایتھوپیا کی کرنسی ’برّ‘ (Birr) چھوڑ کر اپنی نئی قومی کرنسی ’نکفا‘ (Nakfa) متعارف کرا دی۔ ایتھوپیا نے اریٹیریا کے ساتھ اس نئی کرنسی میں تجارت کرنے سے صاف انکار کر دیا اور مطالبہ کیا کہ تمام باہمی تجارت امریکی ڈالر میں کی جائے۔ اس معاشی فیصلے سے اریٹیریا کی معیشت کو شدید دھچکا لگا، جس کے نتیجے میں دونوں رہنماؤں کے تعلقات میں دراڑ آ گئی۔ بادمے کا غیر اہم سرحدی علاقہ اس چھپے ہوئے معاشی غصے اور سیاسی انا کو نکالنے کا بہانہ بن گیا۔

مئی 1998 میں بادمے کے مقام پر اریٹیریا کی فوج کے چند اہلکار مارے گئے، جس کے ردِعمل میں اریٹیریا نے بادمے پر باقاعدہ قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد جو ہوا، اس نے پہلی جنگِ عظیم کی ہولناکیوں کی یاد تازہ کر دی۔ دونوں فوجوں نے خندقیں کھود کر آمنے سامنے کی جنگ لڑی۔ ایتھوپیا نے پیش قدمی کے لیے اپنے ہزاروں کسانوں کو اریٹیریا کی خندقوں اور مائن فیلڈز (بارودی سرنگوں) کی طرف سیدھا دوڑا دیا تاکہ اریٹیریا کا گولہ بارود ختم ہو جائے۔

صرف دو سال کے اندر 1,00,000 انسان ہلاک ہو گئے۔ جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں ’الجزائر معاہدہ‘ طے پایا اور ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں ایتھوپیا اریٹیریا باؤنڈری کمیشن قائم کیا گیا۔ سنہ 2002 میں کمیشن نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے بادمے کا علاقہ قانونی طور پر اریٹیریا کا حصہ قرار دے دیا۔

ایتھوپیا نے ابتدا میں اس عالمی فیصلے کی پاسداری کا وعدہ کیا تھا، لیکن جب بادمے اریٹیریا کو دینے کی باری آئی تو ایتھوپیا اپنے موقف سے مکر گیا۔ بادمے کا کنٹرول نہ ملنے کو جواز بنا کر اریٹیریا کے صدر اسیاس افورکی نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا، نوجوانوں کے لیے تاحیات لازمی فوجی سروس کا قانون نافذ کیا اور ملک کو بیرونی دنیا کے لیے قید خانے کی طرح بند کر دیا۔

یہ طویل اور جابرانہ تعطل بالآخر سنہ 2018 میں اس وقت ختم ہوا جب ایتھوپیا میں نئے وزیراعظم ابی احمد اقتدار میں آئے۔ انہوں نے فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایتھوپیا سنہ 2002 کے باؤنڈری کمیشن کے فیصلے کو بلا کسی شرط کے تسلیم کرتا ہے اور بادمے اریٹیریا کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پروازیں اور سفارت خانے دوبارہ بحال ہو گئے اور اس تاریخی پیش رفت پر وزیراعظم ابی احمد کو سنہ 2019 کا نوبل امن انعام دیا گیا۔ لیکن روحان سے لے کر بادمے کی خندقوں تک، یہ تمام کہانیاں تاریخ کا وہ المناک باب ہیں جو ہمیشہ یاد دلاتی ہیں کہ کس طرح نقشوں پر کھینچی گئی ایک لکیر اور حکمرانوں کی سیاسی انا لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون کی ہولناک قیمت وصول کر لیتی ہیں۔

نوٹ: تحریر میں لکھا گیا نام ’روحان‘ فرضی ہے۔