لائیو

’کوئی بھی بحری گزرگاہ حکمت عملی سے باہر نہیں‘، ایران کس طرح امریکہ کو مذاکرات تک لا رہا ہے؟

اظہر تھراج
’کوئی بھی بحری گزرگاہ حکمت عملی سے باہر نہیں‘، ایران کس طرح امریکہ کو مذاکرات تک لا رہا ہے؟3 اگست، 2026

ایران عالمی تجارتی راستوں، بحری گزرگاہوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو دباؤ کے ذرائع بنا کر امریکہ کو طویل مدت تک تھکانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ خلیجی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کا مقصد فیصلہ کن فوجی فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ تنازع کو اس حد تک بڑھانا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے اس بحران کو سنبھالنے کی قیمت ایران کے مطالبات ماننے سے زیادہ ہو جائے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران واشنگٹن کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے معاملے پر اسے بڑا کردار نہ دیا گیا تو تنازع خلیج سے نکل کر دیگر اہم بحری راستوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔

ان کے مطابق متعدد بحری گزرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو خطرے میں ڈال کر ایران آئندہ کسی بھی مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ مشرق وسطیٰ کے ماہر مائیکل نائٹس نے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ایران ابتدا ہی سے امریکہ کے مقابلے میں کشیدگی کو مرحلہ وار بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا، "ایران ہر ہفتے دباؤ بڑھانے کے لیے کوئی نہ کوئی نیا آپشن سامنے لاتا ہے، چاہے وہ نیا جغرافیائی محاذ ہو، نیا ہتھیار ہو یا نیا ہدف۔"
ان کے مطابق ایران کی سب سے بڑی طاقت یہ نہیں کہ وہ امریکہ یا اسرائیل کو نقصان پہنچا سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ خطے کے ممالک اور عالمی معیشت کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر کرنے کی اپنی صلاحیت دکھانے کے بعد، جہاں جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی تھی، ایران نے اشارہ دیا ہے کہ کوئی بھی اہم بحری گزرگاہ اس کی حکمت عملی سے باہر نہیں۔

بحیرۂ احمر اور سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو دی جانے والی دھمکیاں اسی وسیع حکمت عملی کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں، جس کا مقصد عالمی تجارت کے تحفظ کی لاگت بڑھانا اور امریکہ کی برداشت کو آزمانا ہے۔

خلیجی ذرائع کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کی قیادت کا خیال ہے کہ موجودہ صورتحال میں وہ مزید رعایتیں حاصل کر سکتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران سمجھتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل مشرق وسطیٰ میں ایک نئی بڑی جنگ میں الجھنے سے گریز کریں گے۔

ایک خلیجی ذریعے نے کہا کہ ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ اگر جنگ کا دائرہ وسیع کیا جائے اور دباؤ بڑھایا جائے تو آخرکار امریکہ کو پسپائی اختیار کرنا پڑے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پیر کو ہوں گے۔ انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلوانے کے لیے معاہدے کی امید میں انہوں نے ایران پر ایک ممکنہ حملہ روک دیا تھا۔

تاہم ایران نے کہا ہے کہ اس وقت امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔

ایک سینئر ایرانی ذریعے کے مطابق تہران کی قیادت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ ماضی میں لچک دکھانے سے صرف امریکی دباؤ میں اضافہ ہوا، اس لیے اب کسی بھی بامعنی مذاکرات سے پہلے دباؤ پیدا کرنا ضروری ہے۔

ذریعے کے مطابق ایران کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ رعایت کو کمزوری سمجھتے ہیں اور صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ مائیکل سنگھ نے کہا کہ ایران سمجھتا ہے کہ اس کے پاس اب بھی پہل کا موقع موجود ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ خود بھی یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی کہ وہ فوجی کارروائی میں کہاں تک جانے کو تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری قائم کرنا اور وہاں محدود نوعیت کا کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ کے سابق سفارت کار اور ایران کے امور کے ماہر ایلن آئر کے مطابق تہران ایسی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے جس کا مقصد امریکہ کو ناکہ بندی ختم کرنے اور فوجی حملے روکنے پر مجبور کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران نہیں چاہتا کہ امریکہ خطے میں پیش آنے والے واقعات کی رفتار کا تعین کرے۔

رپورٹ کے مطابق تنازع کا بنیادی نکتہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کا انتظامی نظام ہے۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمان نے خلیجی ممالک کی حمایت سے ایک تجویز ایران کے سامنے رکھی ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے جہازوں سے رضاکارانہ فیس لینے کا نظام تجویز کیا گیا ہے۔

تاہم ایران چاہتا ہے کہ اسے آبنائے ہرمز پر انتظامی اختیار حاصل ہو اور وہ وہاں سے گزرنے والے جہازوں سے سروس فیس وصول کر سکے۔

امریکہ نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور اسے ایرانی کنٹرول سے آزاد رہنا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی موجودہ حکمت عملی کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خطے اور مغربی ممالک کی توجہ اب ایران پر مزید دباؤ بڑھانے کے بجائے تجارتی راستوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ پر مرکوز ہو گئی ہے۔

سعودی عرب کی قیادت میں بننے والا نیا بحری اتحاد بھی اسی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

خلیجی ذرائع کے مطابق اس اتحاد کا مقصد تجارتی جہازوں کو تحفظ فراہم کرنا، انٹیلی جنس کا تبادلہ کرنا اور بحری راستوں کی نگرانی کرنا ہے، نہ کہ براہ راست ایران کے خلاف کارروائی کرنا۔

مائیکل نائٹس نے اس اتحاد کا موازنہ یورپی مشن "اسپائیڈیز" سے کیا، جو بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق ایران براہ راست امریکی فوجی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا، لیکن وہ دیگر ممالک کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر کے انہیں اضافی مالی اور عسکری اخراجات برداشت کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز، باب المندب یا کسی اور مقام پر پیدا ہونے والا ہر نیا خطرہ عالمی تجارت کو جاری رکھنے کے لیے مزید وسائل درکار بنا دیتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مقابلہ بنیادی طور پر برداشت کا امتحان بن چکا ہے۔

ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ وہ معاشی دباؤ کو اس مدت تک برداشت کر سکتی ہے جس مدت تک امریکہ اور اس کے اتحادی عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں میں بار بار آنے والی رکاوٹوں کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کی اس حکمت عملی کا ایک سفارتی مقصد بھی ہے۔ تہران چاہتا ہے کہ اگر مستقبل میں مذاکرات ہوں تو ان کی شرائط طے کرنے میں اس کا کردار نمایاں ہو۔

امریکہ کے سابق مشیر اور کونسل آن فارن ریلیشنز سے وابستہ رے تقیہ نے کہا، "اگر مذاکرات ہوئے تو دونوں فریق اپنی اپنی شرائط منوانے کی کوشش کریں گے۔ اس وقت دونوں جانب سے کشیدگی کا جواب مزید کشیدگی سے دیا جا رہا ہے۔"

تاہم رپورٹ کے مطابق نہ واشنگٹن اور نہ ہی تہران پسپائی اختیار کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث خدشہ ہے کہ دباؤ بڑھانے کی یہ حکمت عملی ایک ایسے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے جس پر کسی بھی فریق کا مکمل کنٹرول نہ رہے۔


تازہ اپڈیٹس

  1. سعودی تیل سے لدے دو ٹینکرز آبنائے باب المندب عبور کر گئے

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق گزشتہ ہفتے کے اختتام پر سعودی تیل سے لدے دو ٹینکرز آبنائے باب المندب عبور کر گئے۔

    پیر کے روز سامنے آنے والے کیپلر ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی بحری جہازوں کی تعداد اتوار کے روز کم ہو کر 18 رہ گئی، جو ہفتے کو 27 اور جمعے کے روز 28 تھی۔

    ڈیٹا کے مطابق سویز میکس ٹینکر 'لیزوس' اور ویری لارج کروڈ کیریئر 'دیش ویبھو' نے اپنے آٹومیٹک آئیڈنٹیفکیشن سسٹمز (اے آئی ایس) ٹرانسپونڈرز بند کر کے بحیرہ احمر سے انخلا کیا۔

    مالٹا کے پرچم بردار ٹینکر 'لیزوس' پر تقریباً 10 لاکھ بیرل سعودی خام تیل لدا ہوا تھا اور فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ کس جانب جا رہا ہے۔

    دوسری جانب 20 لاکھ بیرل تیل لے جانے والا ٹینکر 'دیش ویبھو' بھارت کی سکا بندرگاہ کی جانب رواں دواں ہے، جہاں عموماً ریلائنس انڈسٹریز خام تیل وصول کرتی ہے۔

  2. امریکی فوج نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے 'تخلیقی اور غیر روایتی' تجاویز طلب کر لیں

    امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے ایک سینیئر افسر نے اپنے اہلکاروں اور تجزیہ کاروں سے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے 'تخلیقی اور غیر روایتی' تجاویز طلب کر لیں۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی انٹیلیجنس برانچ کے ایک افسر نے بدھ کے روز فوجی تجزیہ کاروں کے ایک بڑے گروپ کو ای میل بھیجی جس میں لکھا گیا تھا کہ 'ہم ایران پر دباؤ ڈالنے اور اسے سزا دینے کے لیے نئے، تخلیقی اور غیر روایتی طریقوں کی تلاش میں ہیں'۔

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ فوجی حکام کے مطابق ای میل کے ذریعے اس طرح کی رائے مانگنا ایک غیر معمولی قدم ہے اور یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاس ایران کو اپنی شرائط پر معاہدہ کرنے پر مجبور کرنے کے آپشنز محدود ہیں۔

    اس حوالے سے سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹموتھی ہاکنز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی تخلیقی سوچ اور کام کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔

    رپورٹ کے مطابق یہ ای میل صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر نئے حملوں کی دھمکی دینے سے قبل بھیجی گئی تھی۔

مزید خبریں