کینیڈین حکومت کے مطابق نئے جوابی محصولات 8 ستمبر سے نافذ ہوں گے اور امریکا سے درآمد کی جانے والی تقریباً 700 مصنوعات پر 15، 25 اور 50 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جائے گا۔

کینیڈا نے امریکی ٹیرف سے متاثر ہونے والے کاروبار اور کارکنوں کے لیے 7.5 ارب کینیڈین ڈالر کے مالی معاونتی پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے، جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی مدد، کمپنیوں کے نقدی بہاؤ کے لیے فنڈنگ اور ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے کارکنوں کے لیے معاونت شامل ہے۔

کینیڈین وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شامپین نے کہا کہ ڈالر کے بدلے ڈالر اور شرح کے بدلے شرح جوابی ٹیرف کارکنوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباروں کے تحفظ میں مدد دیں گے۔

حکومتی حکام کے مطابق نئے محصولات اس انداز میں عائد کیے گئے ہیں کہ کینیڈین صارفین اور کاروبار پر ان کا اثر کم سے کم ہو، تاہم امریکی مصنوعات اور کاروبار بھی اس سے متاثر ہوں گے۔

کینیڈا نے اسٹیل، ایلومینیم، فرنیچر اور کپڑوں سمیت بعض اہم شعبوں کی امریکی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ پنیر، برقی آلات اور بعض سمندری خوراک پر 25 فیصد اور الیکٹرانکس و آلات پر 15 فیصد محصولات عائد کیے جائیں گے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین درآمدات پر عائد کیے گئے نئے 50 فیصد ٹیرف ہفتے سے نافذ ہوگئے۔

دونوں ممالک کے درمیان محصولات سے متعلق مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی کینیڈین اشیا پر نئے محصولات عائد کیے تھے۔

دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ٹرمپ نے کینیڈین گاڑیوں پر امریکی ٹیرف آئندہ سال 50 فیصد تک بڑھانے کا عندیہ دیا۔

مزید پڑھیں؛ امریکا سے تجارتی جنگ؛ کینیڈا کا ’ڈالر کے بدلے ڈالر‘ جوابی ٹیرف کا اعلان

کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے ٹرمپ کے آٹو ٹیرف کی دھمکی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکا کو بجلی کی برآمدات پر اضافی سرچارج عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔

حالیہ اقدامات کو کینیڈا اور امریکا کے تعلقات میں ایک نئی نچلی سطح قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازع کے ساتھ سیاسی کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے، جب کہ ٹرمپ متعدد مواقع پر کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی تجویز دے چکے ہیں۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق امریکی نئے محصولات کے نتیجے میں کینیڈین برآمدات پر امریکا کی مؤثر ٹیرف شرح بھی بڑھ جائے گی، جب کہ پلاسٹک، برقی مشینری، لکڑی اور کاغذی مصنوعات سمیت مختلف شعبے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔