پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا تھا کہ صوبے پاکستان کی تاریخی اکائیاں ہیں اور ان کے ساتھ لوگوں کی تاریخی و سیاسی وابستگی ہے، اس لیے انہیں چھیڑنے کے بجائے انتظامی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بیوروکریسی، ریڈ ٹیپ اور اختیارات کی مرکزیت جیسے مسائل موجود ہیں، جب کہ 18ویں ترمیم کے تحت مرکز سے صوبوں کو منتقل کیے گئے اختیارات بھی مؤثر طور پر نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوسکے۔
ڈاکٹر حسن عسکری نے کہا کہ مؤثر بلدیاتی نظام کے بغیر عام آدمی کو بنیادی سہولیات اور فلاحی خدمات کی فراہمی ممکن نہیں۔ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے شہریوں کو اسلام آباد، لاہور، پشاور یا کوئٹہ جانے کے بجائے اختیارات ضلعی سطح پر دستیاب ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبوں کو برقرار رکھتے ہوئے ڈویژن اور اضلاع کی سطح پر گورننس کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے اور ماضی میں مشرف دور کا بلدیاتی نظام اس حوالے سے ایک تجربہ تھا، جس میں مزید اصلاحات کی گنجائش موجود ہے۔
نئے صوبے بنانے سے کونسے نئے سیاسی مسائل جنم لیں؟ کیا نئے صوبے بنانا اتنا ہی آسان ہے؟ اور اختیارات کو کس طرح نچلی سطح تک منتقل کیا جاسکتا ہے؟ ان سوالات کے جواب جاننے کے لیے ویڈیو کو مکمل دیکھیں۔







