انہوں نے بتایا کہ کس طرح اس حکمتِ عملی نے چین کو کم لاگت والی مینوفیکچرنگ سے نکال کر مصنوعی ذہانت (AI)، روبوٹکس، سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرک گاڑیوں، ایرو اسپیس اور بایوٹیکنالوجی جیسے جدید شعبوں میں عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا۔
گفتگو میں چین کی اقتصادی ترقی، عالمی مسابقت، ٹیکنالوجی میں خود انحصاری، عالمی معیشت پر اس پالیسی کے اثرات اور پاکستان کے لیے اس سے حاصل ہونے والے ممکنہ اسباق پر بھی روشنی ڈالی گئی۔







