ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے میں لاہور کے 19 مقامات پر ایک ہزار ماڈل ریڑھیاں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کی ابتدائی لاگت تقریباً 15 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی۔

اس منصوبے کے ٹینڈر میں پانچ کمپنیوں نے حصہ لیا اور ویلڈ انجینئرز نے سب سے کم بولی دیتے ہوئے ایک ریڑھی کی قیمت 98 ہزار روپے مقرر کی، تاہم دستاویزات میں کمی کے باعث کمپنی کو نااہل قرار دے دیا گیا۔

اس کے بعد ٹھیکہ رحمان اینڈ برادرز کو دیا گیا، جس نے ایک ریڑھی کی قیمت ایک لاکھ 48 ہزار 700 روپے مقرر کی۔ یوں کم ترین بولی کے مقابلے میں فی ریڑھی تقریباً 50 ہزار 700 روپے زیادہ رقم طے ہوئی۔

ایک ہزار ریڑھیوں کے حساب سے دونوں قیمتوں کے درمیان فرق تقریباً 5 کروڑ روپے بنتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بعد ازاں رحمان اینڈ برادرز نے یہی کام ویلڈ انجینئرز کو 98 ہزار روپے فی ریڑھی کے حساب سے دے دیا۔ یعنی جس کمپنی کی کم ترین بولی کو ٹینڈر کے مرحلے پر مسترد کیا گیا تھا، وہی کمپنی بعد میں ریڑھیاں تیار کرنے میں شامل ہوگئی۔

منصوبے پر ایک اور سوال ریڑھی بانوں کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کے باعث اٹھا۔ بعض ریڑھی بانوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے مفت فراہم کی جانے والی ریڑھی کے لیے ان سے 10 ہزار سے 25 ہزار روپے تک وصول کیے گئے۔

کچھ ریڑھی بانوں کے مطابق ان کی پرانی ریڑھیاں بھی ضبط کرلی گئیں۔

یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت نے ریڑھی بانوں کو مفت ماڈل ریڑھی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس کے حصول کے لیے مبینہ طور پر ہزاروں روپے کیوں ادا کرنا پڑے؟

دوسری جانب اسی منصوبے کا دوسرا مرحلہ بھی شروع کردیا گیا ہے، جس میں مزید ایک ہزار ریڑھیاں فراہم کی جائیں گی۔ اس مرحلے میں فی ریڑھی تخمینہ بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کردیا گیا، جس سے منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 20 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

پہلے مرحلے میں جہاں پانچ کمپنیوں نے ٹینڈر میں حصہ لیا تھا، وہیں دوسرے مرحلے میں صرف ایک کمپنی نے بولی جمع کرائی۔

لاہور کے ڈپٹی کمشنر سید موسیٰ رضا کا مؤقف ہے کہ منصوبے کے لیے ای ٹینڈرنگ کا پورا عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا۔

حکام کا یہ مؤقف اپنی جگہ اہم ہے اور کسی بھی الزام کو حتمی حقیقت قرار دینے سے پہلے متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے رکھنا ضروری ہے، تاہم منصوبے کی شفافیت کا سوال صرف اس بات تک محدود نہیں کہ ٹینڈر آن لائن ہوا یا نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ کم ترین بولی دینے والی کمپنی کو کن وجوہات کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا، بعد میں یہی کام کس قیمت پر اور کس کمپنی کے ذریعے مکمل ہوا، فی ریڑھی قیمت میں اتنا بڑا فرق کیوں آیا اور سب سے بڑھ کر اگر ریڑھی واقعی مفت تھی تو ریڑھی بانوں سے مبینہ طور پر 10 سے 25 ہزار روپے کیوں وصول کیے گئے؟

یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کہ منصوبے کا بنیادی مقصد ہی کم آمدنی والے ریڑھی بانوں کو سہولت دینا اور ان کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کرنا تھا۔