جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے کہا کہ احتجاج کا مقصد عوام پر عائد اضافی بوجھ ختم کرانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے تقریباً 150 روپے اضافی وصول کیے ہیں، جس سے ملک بھر کے شہری متاثر ہو رہے ہیں۔

جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ احتجاج کا دوسرا مرحلہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنوں کی صورت میں جاری رہے گا، جبکہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد مارچ کی کال بھی دی جا سکتی ہے۔

مقررین نے وفاقی اور پنجاب حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پٹرولیم لیوی کا معاملہ وفاق سے متعلق ہے تو صوبائی حکومتوں کو بھی وفاق کے سامنے عوام کا مقدمہ پیش کرنا چاہیے۔

جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے بجلی کے بلوں، گیس کی قیمتوں اور دیگر مہنگائی کے خلاف بھی آواز اٹھاتے ہوئے حکومت سے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔

مزید جاننے کے لیے 'پاکستان میٹرز' کی اس خصوصی رپورٹ کو مکمل دیکھیں۔