یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کے اندر آئل ریفائنریوں، تیل کے ذخائر اور سپلائی انفراسٹرکچر پر ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہوئی اور کچھ ریفائنریوں کو عارضی طور پر پیداوار کم کرنا پڑی۔
جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے روسی معیشت پر بھی دباؤ ڈالا ہے۔ بجٹ خسارہ بڑھنے اور مالی ذخائر میں کمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ معاشی ترقی کی رفتار بھی سست رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یوکرین کی حکمت عملی اب صرف محاذ پر لڑائی تک محدود نہیں رہی بلکہ روس کی سپلائی لائن، ایندھن کے ذخائر اور عسکری لاجسٹکس کو نشانہ بنا کر اس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے پر بھی مرکوز ہے۔
تاہم روس اب بھی اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے جنگ کے فوری خاتمے یا روس کی عسکری کمزوری کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
یوکرین جنگ کے چار سال، کیا روس کے پاس ایندھن ختم ہو رہا ہے؟
Muhammad Zain Akhtar
محمد زین اختر ملٹی میڈیا صحافی اور سماجی کارکن ہیں اور ان کا تعلق انگریزی ادب کے شعبے سے ہے۔ ان کی صحافتی دلچسپیوں میں خبروں کی رپورٹنگ، ڈیجیٹل کہانی گوئی اور انسانی حقوق، ماحولیاتی تبدیلی اور سماجی انصاف سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنا شامل ہے۔ وہ یوتھ والنٹیئر آرگنائزیشن (YVO) کے ڈائریکٹر بھی ہیں، جہاں وہ محروم طبقات کی آواز بلند کرنے اور باخبر عوامی مکالمے کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
6 اگست، 2026روس دنیا کی بڑی فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے، لیکن یوکرین جنگ کے چار سال سے زائد عرصے بعد اسے عسکری، معاشی اور لاجسٹک دباؤ کا سامنا ہے۔







