یوکرین نے حالیہ مہینوں میں روس کے اندر آئل ریفائنریوں، تیل کے ذخائر اور سپلائی انفراسٹرکچر پر ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے، جس سے بعض علاقوں میں ایندھن کی سپلائی متاثر ہوئی اور کچھ ریفائنریوں کو عارضی طور پر پیداوار کم کرنا پڑی۔

جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے روسی معیشت پر بھی دباؤ ڈالا ہے۔ بجٹ خسارہ بڑھنے اور مالی ذخائر میں کمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ معاشی ترقی کی رفتار بھی سست رہنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق یوکرین کی حکمت عملی اب صرف محاذ پر لڑائی تک محدود نہیں رہی بلکہ روس کی سپلائی لائن، ایندھن کے ذخائر اور عسکری لاجسٹکس کو نشانہ بنا کر اس کی جنگی صلاحیت کو کمزور کرنے پر بھی مرکوز ہے۔
تاہم روس اب بھی اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے جنگ کے فوری خاتمے یا روس کی عسکری کمزوری کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔