پاکستان نے ستر برس میں پارلیمانی اور صدارتی دونوں نظام آزمائے، مگر ہر بار مسئلہ نظام سے زیادہ اس کے غیر آئینی اور غیر جمہوری استعمال کا رہا۔ سوال یہ نہیں کہ نیا نظام کیسا ہوگا، سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک اور تجربہ برداشت کر سکتے ہیں؟ شاید اصل راستہ کسی نئے نظام میں نہیں، بلکہ 1973 کے آئین پر ایمانداری سے عمل درآمد میں ہے۔
پارلیمانی اور صدارتی نظام کے تجربوں کے بعد پاکستان کو نیا نظام چاہیے؟
10 اگست، 2026





