پشاور میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی حالیہ پریس کانفرنس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک ادارے کا ڈی جی آ کر پریس کانفرنس کرتا ہے اور میرے بارے میں غلط الفاظ استعمال کرتا ہے۔ میں غیور پختون قبائلی ہوں، میری تربیت ایسی نہیں کہ میں گالیاں دوں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ایک ادارے کے ڈی جی اور ایک جعلی سینیٹر میں فرق ہونا چاہیے۔ ایک پارٹی کے دو جعلی وزرا اور ایک ادارے کے ڈی جی میں فرق ہونا چاہیے۔ آپ نہ جعلی سینیٹر ہیں، نہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ میرے بڑوں نے مجھے ملک اور اس کے اداروں سے محبت سکھائی ہے۔
اپنے خطاب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ کہا جاتا ہے سکیورٹی پالیسی نہیں ہے، لیکن 21 برس سے آپریشن پر آپریشن اور ڈرون پر ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ 21 سال سے میرے پختون کا خون بہہ رہا ہے، اور وہ پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ دے رہا ہے۔ اگر 21 سال میں آپ کی پالیسی کامیاب نہیں ہو رہی تو قصور آپ کا ہے، اپنی پالیسی تبدیل کریں۔
وزیراعلیٰ نے موجودہ سکیورٹی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر آنے والا شخص ایک نئی پالیسی بنا کر نیا تجربہ کرتا ہے۔ یہ غیور عوام کا صوبہ خیبر پختونخوا ہے، کوئی لیبارٹری نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب ایک ایسی پالیسی بنے گی جو اس صوبے کے عوام خود بنائیں گے اور وہی پالیسی چلے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ان باتوں سے اگر کسی کو تکلیف ہوتی ہے تو ہم سچ ضرور بولیں گے۔ جو پاکستان کے مفاد میں نہیں ہوگا، وہ ہمیں ڈکٹیٹ نہیں کرے گا۔ فیصلہ عوام کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم پر تنقید کرنے والے کیا جانتے ہیں؟ ہماری تربیت یہ ہے کہ ملک کی خاطر اگر جان و مال قربان کرنا پڑے تو دریغ نہ کریں۔ ہم نے 80 ہزار سے زیادہ جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے تاکہ پاکستان خوشحال ہو۔
یہ بھی پڑھیں: 21 دسمبر کو پنجاب بھر میں ڈویژنل ہیڈکوارٹرز پر دھرنے ہوں گے، حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے اپنے خطاب میں پشاور کے لیے سو ارب روپے کے پیکج کا اعلان بھی کیا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورننس نہیں ہے، جب کہ گورننس ہوتی تو عوام تیسری مرتبہ عمران خان کو ووٹ نہ دیتے۔
انہوں نے کہا کہ گورننس تو ان کی نہیں جنہیں آئی ایم ایف نے چارج شیٹ کیا ہے کہ اشرافیہ نے عوام کے ٹیکسوں میں سے 5,300 ارب روپے کی کرپشن کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ سیاسی نابالغ ہمیں کہتے ہیں کہ ہم صرف عمران خان کی بات کرتے ہیں۔ میری ذات پر جو الزامات لگے وہ آپ نے سن لیے، میں اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کہتا، لیکن جب بات عمران خان کی آئے گی تو ضرور جواب دیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان خیبر پختونخوا میں بھی ہے، پنجاب میں بھی ہے، سندھ، بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ہے، بلکہ بیرونِ ملک بھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن کے باہر جا کر آپ بوٹ پالش کرتے ہیں، وہ عمران خان کو جھک کر سلیوٹ کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ انہیں مشورہ دینے والے خود نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ وہ جو مشورہ دیتے ہیں، نتیجہ اس کے الٹ ہوتا ہے اور عوام ان سے مزید دور ہو جاتے ہیں۔ یہ عظیم الشان مجمع گواہ ہے کہ عوام عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ آزاد عدلیہ، آزاد میڈیا اور آئین کی بحالی کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔






