کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ دورانِ سماعت عدالت میں ان ملزمان کی حاضری سے متعلق معاملے پر کارروائی ہوئی جو آج عدالت کے روبرو پیش نہیں ہوئے۔

عدالت نے عدم حاضری پر متعلقہ ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا حکم دیا، جبکہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سمیت دیگر ملزمان کے خلاف اشتہاری قرار دینے کی کارروائی بھی جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

سماعت کے دوران ملزمان کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کے لیے دائر درخواستیں بھی عدالت نے مسترد کردیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں عدالتی کارروائی آگے بڑھانے کے لیے ملزمان کی حاضری اور قانونی تقاضوں کی تکمیل ضروری ہے۔

انسداد دہشتگردی عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمے کا چالان جلد عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ کیس کی کارروائی مزید آگے بڑھائی جاسکے۔

پولیس کے مطابق سہیل آفریدی، عبدالغنی آفریدی، جنید اکبر اور دیگر کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے تھانہ مارگلہ اسلام آباد میں مقدمہ درج ہے۔ مقدمے میں احتجاج اور دیگر الزامات سے متعلق قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔

عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے اور اشتہاری کی کارروائی جاری رکھنے کے فیصلے کے بعد کیس میں ملزمان کی قانونی پوزیشن ایک بار پھر اہمیت اختیار کرگئی ہے، جبکہ آئندہ سماعت پر پولیس کی جانب سے چالان پیش کیے جانے کے بعد مقدمے کی کارروائی مزید آگے بڑھنے کا امکان ہے۔