جب بھی پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے، ایک نیا فلسفہ جنم لیتا ہے۔ کوئی کہتا ہے یہ عالمی منڈی کا اثر ہے، کوئی کہتا ہے یہ آئی ایم ایف کی شرط ہے، اور اب کی بار کچھ دانشوروں نے دریافت کیا ہے کہ اصل وجہ سڑکوں پر ہونے والا احتجاج ہے۔ گویا مظاہرین کے نعروں سے تیل کے کنویں خشک ہو جاتے ہیں اور بین الاقوامی تیل کمپنیاں کراچی کی ایک ریلی دیکھ کر ریٹ بڑھا دیتی ہیں۔ یہ تجزیہ اتنا ہی سائنسی ہے جتنا یہ دعویٰ کہ مرغی کے ڈربے میں شور کرنے سے انڈے کا ریٹ بڑھتا ہے۔

اصل کہانی یہ ہے کہ ہر جماعت اپنی باری پر احتجاج کا سبق پڑھتی ہے، اور اقتدار میں آ کر وہی سبق بھول جاتی ہے۔ کل جو سڑکوں پر رہائی کے نعرے لگاتے تھے، آج کرسی کے قریب پہنچ کر رسائی کی فکر میں ہیں۔ اور جو کبھی رسائی کے متلاشی تھے، وہ اب دوائی کے منتظر ہیں۔ ہم عوام بس تماشائی ہیں، جن کا کام صرف یہ دیکھنا ہے کہ اگلا نعرہ کس کے حق میں لگتا ہے اور اگلی گرفتاری کس کی باری پر آتی ہے۔

سیاسی ورکرز کا حافظہ کمزور ہوسکتا ہے میرا نہیں۔ کل الیکشن میں سب یہ کہتے پائے گئے کہ دو سو یونٹ تک بجلی فری کردیں گے، پٹرول، ڈیزل کے ساتھ ساتھ سب اشیاء ضروری سستی کردیں گے۔ پنجاب کی ’شہزادی‘ ہوں یا سندھ کا ’بھٹو‘ ہوں سب اقتدار میں آکر بھول گئے۔ خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں کا تو سب سے بڑا مسئلہ ’قیدی نمبر804‘ ہے چاہے پٹرول، ڈیزل کی قیمت 804 روپے لٹر ہوجائے، صوبے کے تمام مریض مرجائیں بس اڈیالہ جیل والے کو’دوائی تک رسائی‘ مل جائے۔

جماعتِ اسلامی کا احتجاج بھی اسی ’روایتی تماشے‘ کا ایک نیا باب ہے، مگر فرق یہ ہے کہ یہاں مسئلہ کسی رہنما کی رہائی کا نہیں بلکہ عام آدمی کی جیب کا ہے۔ بجلی کا بل ہو یا پٹرول کا ریٹ، یہ درد کسی ایک جماعت کے کارکن کا نہیں، ہر اس شخص کا ہے جو موٹرسائیکل میں تیل ڈلواتے وقت میٹر کی سوئی سے زیادہ اپنے دل کی دھڑکن پر نظر رکھتا ہے۔

مگر ہم نے سیاست کو تماشا اور تماشے کو سیاست بنا رکھا ہے۔ ہر احتجاج کو پہلے جھنڈے کے رنگ سے پرکھا جاتا ہے، پھر مسئلے سے۔ ہم پوچھتے ہیں "یہ کس کا احتجاج ہے" پہلے، اور "کس کے لیے ہے" بعد میں۔ حالانکہ پٹرول کا دھواں کسی جھنڈے کا پابند نہیں، وہ ہر گھر کے چولہے تک یکساں بے رحمی سے پہنچتا ہے۔

قصہ مختصر، جب تک ہم مسئلے کو مسئلے کی طرح اور سیاست کو سیاست کی طرح الگ الگ نہیں دیکھیں گے، ہر احتجاج ایک نئی تفریق کا بہانہ بنتا رہے گا اور ہر مہنگائی ایک نیا الزام تراشتی رہے گی۔ اور قوم، ہمیشہ کی طرح، تماشائی کی نشست پر بیٹھ کر تالیاں بجاتی رہے گی۔ یہ جانے بغیر کہ اگلی باری اسی کی جیب کی ہے۔

نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر