اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-28 کے جائزہ اجلاس میں زراعت، ہاؤسنگ اور چھوٹے و درمیانے کاروباری شعبے کے لیے مالی سہولتوں اور قرضوں کی فراہمی سے متعلق اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، کسانوں کے لیے زرعی قرضوں اور چھوٹے و درمیانے کاروباری اداروں کو فنانسنگ کی فراہمی پر پیش رفت سے وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زرعی شعبہ ملکی معیشت میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے کسانوں کو مالی وسائل تک آسان اور بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنا قومی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زرعی شعبے میں قرضوں کے حصول کے عمل کو مزید سہل بنایا جائے تاکہ کسان اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی پیداوار میں بھی اضافہ کرسکیں۔

وزیراعظم نے بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ کسانوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو بھی ترجیحی بنیادوں پر قرضوں کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی شعبے کی مالی ضروریات پوری کیے بغیر معاشی سرگرمیوں کو مطلوبہ رفتار نہیں دی جاسکتی۔

اجلاس میں وزیراعظم اپنا گھر پروگرام کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ کم آمدن اور متوسط طبقے کو سستے گھروں کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ ایسی جائیدادوں اور پلاٹس کا جامع سروے کیا جائے جو گھر تعمیر کرنے کے خواہش مند افراد کو بینک قرض فراہم کرنے کے لیے رہن کی شرائط پر پورا اترتے ہوں۔

حکام نے وزیراعظم کو بتایا کہ ’اپنا گھر‘ پروگرام کے تحت اب تک ایک لاکھ 47 ہزار 504 درخواستیں موصول ہوچکی ہیں، جن میں سے 53 ہزار 127 درخواستیں منظور کی جاچکی ہیں۔

بریفنگ کے مطابق منظور شدہ درخواستوں کی مجموعی مالیت 313 ارب 42 کروڑ روپے ہے، جبکہ اب تک 8 ہزار 739 درخواست گزاروں کو 45 ارب 43 کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک بھر میں ایسے پلاٹس کی نشاندہی کے لیے ایک نظام تیار کیا جارہا ہے جو بینک قرض کے لیے رہن کی شرائط پر پورا اترتے ہوں۔ اس نظام کا ابتدائی منصوبہ اسلام آباد سے شروع کیا جائے گا، جس کے بعد اسے ملک کے دیگر علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔

پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے معروف ہاؤسنگ ڈویلپرز کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اگست 2026 تک بینکوں کی جانب سے زرعی شعبے کو ایک کھرب 26 ارب 80 کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں۔

ایکسیس ٹو فنانس پلان 2026-28 کے تحت جون 2028 تک زرعی قرضوں کی فراہمی کا ہدف 2 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ’زَرخیز‘ ایپ کے ذریعے آسان زرعی قرضوں کے لیے اب تک 35 ہزار 838 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان درخواستوں میں سے 7 ارب 35 کروڑ روپے کے قرضے منظور کیے گئے، جبکہ ایک ارب 96 کروڑ روپے کی رقم جاری کی جاچکی ہے۔

اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں یعنی ایس ایم ایز کے لیے قرضوں کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا گیا۔

حکام کے مطابق اگست 2026 تک بینکوں کی جانب سے ایس ایم ای شعبے کو ایک کھرب 6 ارب 70 کروڑ روپے کے قرضے فراہم کیے جاچکے ہیں۔

ایکسیس ٹو فنانس پلان کے تحت جون 2028 تک ایس ایم ای شعبے کے لیے قرضوں کا ہدف بھی 2 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایس ایم ای ڈی اے) کی جانب سے گزشتہ تین ماہ کے دوران 1096 چھوٹے اور درمیانے کاروباری اداروں کو مالیاتی امور سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔

وزیراعظم نے اس موقع پر اس بات پر زور دیا کہ مالی سہولتوں تک رسائی بڑھانے کے ساتھ ساتھ کاروباری افراد کی استعداد کار میں اضافے کے لیے تربیتی پروگراموں کو بھی مزید وسعت دی جائے۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، رانا تنویر حسین، محمد اورنگزیب اور ریاض حسین پیرزادہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر خان، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹریز، پاکستانی بینکوں کے صدور و چیف ایگزیکٹو افسران سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔