ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی نے ارکان اسمبلی کو احتجاج کے لیے 5،5 لاکھ روپے فنڈز جمع کرنے اور کارکنوں کو متحرک کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا دورہ پنجاب بھی احتجاج کی تیاریوں کے باعث ملتوی کردیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق سینٹرل پنجاب کے 10 اضلاع سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور کارکن لاہور میں جمع ہوں گے، جہاں صورتحال کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا کہ کارکن لاہور میں احتجاج کریں گے یا انہیں اسلام آباد روانہ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب کے دیگر اضلاع کے ارکان اسمبلی اور کارکن خیبرپختونخوا پہنچیں گے، جبکہ جنوبی پنجاب کے تمام ارکان اسمبلی کارکنوں کے ہمراہ احتجاج سے ایک روز قبل پشاور پہنچیں گے۔

دوسری جانب سینٹرل پنجاب کے پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاج کی تیاریاں جاری ہیں، جبکہ کارکنوں اور رہنماؤں کے گھروں پر پولیس چھاپے مار رہی ہے۔

پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے کہا کہ 27 ستمبر کا مارچ پُرامن ہوگا اور یہ صرف انصاف مارچ ہوگا۔ انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو مارچ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج میں نہ انتشار ہوگا اور نہ سرکاری وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبے آزمائشی طور پر نہیں بننے چاہئیں اور صوبوں کے حوالے سے جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہیے، ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے وفاق کو نقصان پہنچے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صوبوں سے متعلق بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بیانیہ واضح ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور ’را‘ ہے، اس لیے پاکستان کے دشمن کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ذاتی اور سیاسی بیانات اپنی جگہ، لیکن ملک کا امن و امان سب سے مقدم ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کے دوران ملنے والی پذیرائی سے ہمارا حوصلہ بڑھا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام اب اسٹیٹس کو سے جان چھڑانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کا مارچ شوقیہ نہیں ہوگا بلکہ پُرامن احتجاج ہوگا، جس میں سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے۔ ہم ثابت کریں گے کہ ہم پُرامن لوگ ہیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن اور تمام جوائنٹ اپوزیشن 27 ستمبر کے مارچ میں ہمارے ساتھ شامل ہوں۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عوام جمہوری طریقے سے تبدیلی چاہتے ہیں، جس میں تمام لوگوں کے حقوق محفوظ ہوں اور نئے انتخابات ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’صلح حدیبیہ‘ کی طرح ’صلح پاکستان‘ ہونی چاہیے، جس میں سب کے حقوق محفوظ ہوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام سیاسی تناؤ اور تقسیم سے بیزار ہوچکے ہیں۔ صوبے آزمائشی طور پر نہیں بننے چاہئیں۔ امریکا میں 150 سال سے 52 ریاستیں ہیں، جب کہ اس دوران آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ بھارت کی ریاست اتر پردیش میں تقریباً 25 کروڑ آبادی ہے، جو پورے پاکستان کی آبادی سے بھی زیادہ ہے۔