خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام اور معاملے سے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ برطانوی قونصل خانے میں تعینات سفارت کاروں کی سفارتی حیثیت بھی 30 دن بعد ختم کردی جائے گی۔ مشرقی بیت المقدس میں برطانوی قونصل خانے کی موجودگی 1839 سے ہے اور یہ فلسطینی امور کے حوالے سے بیت المقدس، مغربی کنارے اور غزہ سے متعلق برطانوی سفارتی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے برطانوی سفارت کاروں کے خلاف دیگر اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکا کی قیادت میں غزہ سے متعلق رابطہ کاری مشن سے وابستہ برطانوی نمائندوں اور رام اللہ میں تعینات برطانوی سفارت کاروں کو بھی سات دن کے اندر اسرائیل سے روانہ ہونے کا کہا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈیون سار نے برطانوی اقدامات کو اسرائیل کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لندن کی جانب سے اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات قابل قبول نہیں۔ اسرائیل نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ برطانیہ کو غزہ کے لیے امریکا کی قیادت میں قائم رابطہ کاری مشن میں مزید شرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔

اسرائیل کا یہ فیصلہ برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی کے اعلان کے فوراً بعد سامنے آیا۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پارلیمان میں بتایا تھا کہ لندن اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرے گا۔ اس کے علاوہ بستیوں کی توسیع سے متعلق تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، مالی معاونت اور جائیداد سمیت بعض خدمات پر بھی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد سے خطے میں دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ فرانس اور کینیڈا نے بھی اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندیوں کے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ دیگر ممالک نے بھی دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق اسرائیلی حکومت نے برطانیہ کے اقدامات کا جواب دینے کے لیے مزید اقدامات پر غور شروع کردیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے بعد ان ممالک کے خلاف بھی ممکنہ ردعمل کا جائزہ لیا جائے گا جنہوں نے برطانوی اقدام کی حمایت کی ہے۔

برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، خصوصاً غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں، مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کے معاملے پر لندن کی جانب سے اسرائیل پر تنقید کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات مزید تناؤ کا شکار ہوئے ہیں۔

تازہ اقدامات کے بعد برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ اسرائیلی بستیوں سے متعلق برطانیہ، فرانس اور کینیڈا کی پالیسی میں تبدیلی نے اسرائیل کے بعض روایتی مغربی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں بھی نئی بحث کو جنم دیا ہے۔