روئٹرز کے مطابق اسرائیلی حکام اور معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا ہے کہ برطانوی قونصل خانے کو بند کرنے کے فیصلے کے ساتھ اسرائیل نے برطانوی اہلکاروں کے خلاف مزید اقدامات بھی کیے ہیں۔ امریکا کی قیادت میں غزہ سے متعلق رابطہ کاری کے مشن میں تعینات برطانوی نمائندوں اور رام اللہ میں موجود برطانوی سفارتکاروں کو بھی سات روز کے اندر اسرائیل چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون سار نے اس اقدام کو برطانیہ کی جانب سے مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کا ردعمل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل ان ممالک کے اقدامات کا جواب دے گا جو اس کے خلاف پابندیاں عائد کرتے ہیں۔
اسرائیل کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب برطانیہ نے فرانس، کینیڈا اور دیگر مغربی ممالک کے ساتھ مل کر مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق تجارتی پابندیوں کا اعلان کیا۔
برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی کے علاوہ بستیوں سے منسلک بعض خدمات، تعمیرات، مالیاتی سرگرمیوں، انفرااسٹرکچر، رئیل اسٹیٹ اور تشہیری سرگرمیوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لندن کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری کے پھیلاؤ کو روکنا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو تحفظ دینا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور فلسطینیوں کی مبینہ جبری بے دخلی پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ صرف تشویش کا اظہار کافی نہیں، بلکہ موجودہ صورتحال کے تناظر میں عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے برطانیہ کی جانب سے اسرائیلی بستیوں کے خلاف نئی پابندیوں کی کھل کر مخالفت سے گریز کیا ہے۔
ایکسيوس کی رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت نے پابندیوں کے اعلان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے منصوبے سے آگاہ کیا تھا، تاہم واشنگٹن نے اس اقدام کی واضح مخالفت نہیں کی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی برطانوی فیصلے پر سخت تنقید کرنے کے بجائے محتاط مؤقف اختیار کیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے برطانوی اقدام کی مخالفت نہ کرنا اس بات کی ممکنہ علامت سمجھا جا رہا ہے کہ واشنگٹن میں اسرائیلی حکومت کی مغربی کنارے سے متعلق پالیسیوں پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ تاہم امریکا نے برطانیہ کے اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان بھی نہیں کیا۔
اسرائیلی حکومت نے برطانوی قونصل خانے کی بندش کے علاوہ برطانیہ کے ساتھ تعاون کے دیگر شعبوں کو بھی محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیل نے فلسطینی سیکیورٹی فورسز کی تربیت میں برطانیہ کے کردار کو ختم کرنے اور بعض برطانوی شخصیات کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق تقریباً 12 برطانوی شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے، جن میں سابق برطانوی لیبر رہنما جیریمی کوربن بھی شامل ہیں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گدعون سار نے برطانیہ کے اقدامات کو اسرائیل کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے لندن کے فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموترچ نے بھی برطانیہ کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے برطانوی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اسرائیل برطانیہ یا کسی دوسرے ملک کے دباؤ میں اپنی پالیسی تبدیل نہیں کرے گا۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے اس کی پالیسی کا حصہ ہیں۔ لندن کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع مستقبل میں ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
برطانیہ کے ساتھ فرانس، کینیڈا اور دیگر ممالک کی جانب سے بھی اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات نے اسرائیل کے ساتھ ان ممالک کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کردیا ہے۔
یاد رہے کہ برطانیہ کی حالیہ پالیسی اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر لندن کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے برطانوی قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اختلاف کو مزید گہرا کرسکتا ہے۔
اس صورتحال میں ایک طرف اسرائیل نے برطانیہ کے خلاف جوابی سفارتی اقدامات شروع کردیئے ہیں، تو دوسری جانب لندن اسرائیلی بستیوں اور مغربی کنارے کی صورتحال پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر مزید اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یوں اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان تعلقات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں جہاں سفارتی تنازع کے مزید بڑھنے کے امکانات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا۔







