ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر امریکی صدور کی ایک درجہ بندی پر مشتمل گرافک شیئر کیا، جس میں انہوں نے خود کو سب سے بلند ترین درجے پر رکھا۔ ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی فہرست میں امریکی صدور کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا، جن میں ’’دی گریٹسٹ‘‘، ’’گریٹ‘‘، ’’نیئر گریٹ‘‘، ’’اوسط‘‘، ’’اوسط سے کم‘‘ اور ’’ناکام‘‘ شامل ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے شیئر کیے گئے چارٹ میں وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں ’’دی گریٹسٹ‘‘ یعنی سب سے عظیم صدر کے درجے میں رکھا گیا ہے، جبکہ امریکی تاریخ کے کئی معروف صدور کو ان سے ایک درجے نیچے ’’عظیم‘‘ قرار دیا گیا۔

فہرست کے مطابق سابق امریکی صدر ابراہام لنکن، جنہیں امریکی تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے، جارج واشنگٹن، فرینکلن ڈی روزویلٹ، ووڈرو ولسن، تھامس جیفرسن اور اینڈریو جیکسن کو ’’عظیم‘‘ صدور کے زمرے میں شامل کیا گیا۔

اسی طرح تھیوڈور روزویلٹ، گروور کلیولینڈ، جان ایڈمز اور جیمز کے پولک کو ’’عظیم کے قریب‘‘ قرار دیا گیا۔

ٹرمپ کی فہرست میں سابق صدر بل کلنٹن سمیت متعدد صدور کو ’’اوسط‘‘ درجے میں رکھا گیا۔ اس کیٹیگری میں جان کوئنسی ایڈمز، جیمز منرو، ردر فورڈ بی ہیز، جیمز میڈیسن، مارٹن وان بیورن، ولیم ہاورڈ ٹافٹ، چیسٹر آرتھر، ولیم میک کِنلے، اینڈریو جانسن، ہربرٹ ہوور اور بینجمن ہیریسن سمیت دیگر صدور شامل ہیں۔

دوسری جانب ٹرمپ نے بعض سابق صدور کو ’’اوسط سے کم‘‘ قرار دیا۔ اس گروپ میں جان ٹائلر، کیلون کولج، میلارڈ فلمور، زیکری ٹیلر، جیمز بیوکنن اور فرینکلن پیئرس کے نام شامل کیے گئے۔

ٹرمپ نے امریکی تاریخ کے چند معروف صدور کو سب سے نچلے درجے یعنی ’’ناکام‘‘ صدور کی فہرست میں رکھا۔ اس کیٹیگری میں سابق صدر جو بائیڈن، باراک اوباما، یولیسیز ایس گرانٹ، وارن ہارڈنگ اور جمی کارٹر شامل ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی تیار کردہ فہرست میں کئی اہم امریکی صدور کے نام شامل ہی نہیں کیے گئے، جن میں جان ایف کینیڈی اور ہیری ٹرومین بھی شامل ہیں۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے اس امر کی کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی کہ بعض صدور کو فہرست سے کیوں خارج کیا گیا۔

ٹرمپ کی جانب سے اپنی صدارت کو امریکی تاریخ میں سب سے بلند مقام دینا ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وہ اپنی سیاسی میراث اور اپنے دور حکومت کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر مسلسل متحرک ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ حالیہ دنوں میں ٹروتھ سوشل پر ایسی تصاویر اور مواد بھی شیئر کر رہے ہیں جن میں خود کو امریکی تاریخ کی اہم شخصیات اور تاریخی لمحات کے تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان سرگرمیوں کو بعض مبصرین ٹرمپ کی جانب سے اپنی سیاسی میراث کی تشکیل کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے صدور کی یہ درجہ بندی کسی باقاعدہ تاریخی سروے، صدارتی ماہرین کے پینل یا غیر جانب دار ادارے کی جانب سے جاری کردہ درجہ بندی نہیں، بلکہ خود صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا ایک سیاسی و شخصی جائزہ ہے۔

امریکی صدور کی تاریخی درجہ بندی عموماً مورخین، سیاسی ماہرین اور عوامی سرویز کے ذریعے مختلف پیمانوں پر کی جاتی ہے، جن میں جنگی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت، ملکی معیشت، آئینی کردار، خارجہ پالیسی، بحرانوں سے نمٹنے اور طویل مدتی قومی اثرات جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔

تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فہرست میں ان روایتی پیمانوں کی وضاحت کیے بغیر خود کو تمام سابق امریکی صدور سے اوپر رکھتے ہوئے ’’سب سے عظیم‘‘ قرار دیا، جس کے بعد ان کی جانب سے شیئر کی گئی یہ درجہ بندی امریکی سیاسی اور میڈیا حلقوں میں موضوعِ بحث بن گئی ہے۔