کمیٹی نے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز، نرسوں اور دیگر اسٹاف کو معطل کرکے تحقیقات مکمل ہونے تک ان سے پوچھ گچھ کا مطالبہ کردیا ہے، جب کہ سانحے کی اصل وجہ، فائر سیفٹی انتظامات اور اسپتال انتظامیہ کی ممکنہ غفلت پر بھی سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔
پمز اسپتال کی نرسری میں 26 اگست کو آتشزدگی کے نتیجے میں متعدد نومولود بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔ واقعے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے آگ لگنے کی مختلف وجوہات سامنے آتی رہیں۔
ابتدائی طور پر ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر یا شارٹ سرکٹ کو آگ لگنے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا، جب کہ بعد میں پمز انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ میں انکوبیٹر کے ساتھ موجود آکسیجن سے متعلق نیبولائزر پھٹنے اور آکسیجن کے آگ پکڑنے کا مؤقف سامنے آیا۔ اس کے بعد واقعے کی وجوہات سے متعلق مزید سوالات نے جنم لیا۔
پمز اسپتال کا دورہ کرنے والے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے رکن ڈاکٹر مہیش کمار نے انتظامیہ کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز انہیں بتایا گیا تھا کہ آگ ایئر کنڈیشنر سے لگی، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ متعلقہ اے سی کام ہی نہیں کررہا تھا۔
مزید پڑھیں: پمز اسپتال میں آتشزدگی: کب کیا ہوتا رہا، عینی شاہدین نے کیا دیکھا، دل دہلا دینے والا سانحہ چند منٹوں میں کیسے پیش آیا؟
ان کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے کے باوجود تاحال یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آگ اصل میں کہاں سے اور کیسے شروع ہوئی؟
ڈاکٹر مہیش کمار نے الزام عائد کیا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نرسری کے بعض نرسنگ اسٹاف کو ایک مخصوص بیان دینے کے لیے تیار کیا گیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اصل حقیقت مکمل تحقیقات کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ ان کے مطابق واقعے کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آتشزدگی کے وقت نرسری میں کون کون ڈیوٹی پر موجود تھا، بچوں کی نگرانی کس کے ذمے تھی اور ہنگامی صورتحال میں عملے نے کیا اقدامات کیے۔
قائمہ کمیٹی کے رکن نے پمز کی نرسری کے انفراسٹرکچر پر بھی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نرسری 1990 میں قائم کی گئی تھی، جب کہ اسپتال میں نیا بلاک بھی موجود ہے اور نومولود بچوں کو جدید سہولیات سے آراستہ نئے بلاک کی نرسری میں منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔ پرانی عمارت، فائر سیفٹی اور دیگر حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا ناگزیر ہے۔
دوسری جانب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت نے واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز اور اسٹاف کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمیٹی کا مؤقف ہے کہ جب تک یہ تعین نہیں ہوجاتا کہ حادثے کے وقت نرسری میں انتظامی اور طبی ذمہ داریاں کس کے پاس تھیں اور ایمرجنسی کے دوران کیا اقدامات کیے گئے، اس وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کے کردار کی مکمل چھان بین ضروری ہے۔
کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کو بھی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا مشورہ دیا ہے۔ تاہم حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقاتی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔
ادھر پمز انتظامیہ نے بھی سانحے کی وجوہات جاننے کے لیے اپنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عاطف انعام کی سربراہی میں قائم چار رکنی کمیٹی کو آتشزدگی کی اصل وجہ، فائر سیفٹی انتظامات، ریسکیو آپریشن کی افادیت اور رسپانس ٹائم کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پمز اسپتال سانحہ؛ انتظامیہ کا میٹرنٹی کے نئے کیسز لینے سے انکار، تحقیقات کے لیے نئی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی
کمیٹی کو ذمہ داران کا تعین کرکے سفارشات پیش کرنے اور 48 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے دفتر میں جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا ہے۔ کمیٹی نے نرسری کے عملے سے تحریری بیانات طلب کیے ہیں، جبکہ نرسری کی سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لے کر اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔
26 اگست کو ڈیوٹی پر موجود عملے کا روسٹر، فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ کی رپورٹس بھی کمیٹی کو فراہم کردی گئی ہیں۔ تحقیقاتی کمیٹی پمز ہیلتھ مینجمنٹ کے افسران سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے، جب کہ پمز کے چار افسران اپنے تحریری بیانات جمع کراچکے ہیں۔
لازمی پڑھیں: کسی کو نہیں چھوڑیں گے، خود کو احتساب کے لیے پیش کرتا ہوں، بطور وزیرِ صحت کام جاری رکھوں گا؛ مصطفیٰ کمال
کمیٹی انتظامیہ کے بیانات اور سی سی ٹی وی ریکارڈ کا تقابلی جائزہ لے رہی ہے تاکہ آگ لگنے کے اصل محرکات اور واقعے کے دوران ہونے والی ممکنہ کوتاہیوں کا تعین کیا جاسکے۔
سانحے کے بعد سب سے اہم سوال یہی ہے کہ نرسری میں نومولود بچوں کی حفاظت کے لیے فائر سیفٹی کا نظام کس حد تک مؤثر تھا، ہنگامی صورتحال میں عملے کا ردعمل کیا رہا اور کیا بچوں کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے مناسب انتظامات موجود تھے۔
قائمہ کمیٹی، پمز انتظامیہ اور وزیراعظم کی تحقیقاتی کمیٹی کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہوسکے گا کہ واقعے میں غفلت کہاں ہوئی اور اس کے ذمہ دار کون ہیں۔







