خالد حسین باٹھ نے کہا کہ شوگر مل مالکان کا مؤقف ہے کہ اگر چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت نہ دی گئی تو وہ کسانوں سے گنا خریدنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ شوگر مل مالکان کی جانب سے کسانوں اور حکومت کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ چینی کی ایکسپورٹ سے ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں مہنگائی مزید بڑھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شوگر مل مالکان نے پہلے کسانوں کو لوٹا اور اب عوام کی جیب پر ڈاکا ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

چیئرمین کسان اتحاد نے الزام عائد کیا کہ شوگر ملوں کی جانب سے کسانوں کے 7 ارب روپے واجب الادا ہیں۔ کسانوں سے من مانے نرخوں پر گنا خرید لیا جاتا ہے لیکن انہیں بروقت ادائیگیاں نہیں کی جاتیں۔

خالد حسین باٹھ کے مطابق کسانوں سے 320 روپے من کے حساب سے گنا خریدا جاتا ہے جبکہ حکومت کو 400 روپے من خریداری کی اطلاع دی جاتی ہے۔

خالد حسین باٹھ نے کہا کہ گنے کے رس سے صرف چینی ہی تیار نہیں ہوتی بلکہ اس کی باقیات سے بجلی اور دیگر مصنوعات بھی بنائی جاتی ہیں، جبکہ شوگر ملوں سے نکلنے والی مڈ بھی فروخت ہو جاتی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ شوگر مل مالکان ڈالر کماتے ہیں جبکہ خسارہ کسان کی جھولی میں ڈال دیا جاتا ہے۔

چیئرمین کسان اتحاد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے اور گنے کا ریٹ 700 روپے فی من مقرر کیا جائے۔