پنجاب اے آئی حب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز شریف نے کہا کہ چند ماہ قبل پنجاب اے آئی حب کا منصوبہ صرف تصور اور کانسیپٹ اسٹیج تک محدود تھا، تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسے ریکارڈ وقت میں مکمل کیا گیا اور آج منصوبے کا پہلا مرحلہ لانچ کردیا گیا ہے، پنجاب اے آئی حب محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ صوبے میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کے ذریعے ٹیکنالوجی، جدت اور جدید طرز حکمرانی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب اے آئی حب کے منصوبے کے دوسرے اور تیسرے مراحل بھی موجود ہیں، اس لیے آج کی تقریب کو حتمی منزل کے بجائے ایک بڑے سفر کا آغاز سمجھا جانا چاہیے, مصنوعی ذہانت دنیا بھر میں تیزی سے مختلف شعبوں کو تبدیل کر رہی ہے اور پنجاب بھی جدید ٹیکنالوجی کے اس سفر میں پیچھے نہیں رہے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے منصوبے کی تکمیل میں کردار ادا کرنے والے جنرل فیاض حسین شاہ سمیت تمام متعلقہ اداروں اور حکام کی کاوشوں کو سراہا، محدود وقت میں اتنے بڑے منصوبے کو عملی شکل دینا قیادت، رابطہ کاری، تعاون اور ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیلنجنگ حالات کے باوجود مختلف اداروں نے جس انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کیا، وہ قابل تحسین ہے۔
مریم نواز نے پنجاب پولیس، محکمہ داخلہ، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ، اسپیشل برانچ اور وفاقی و صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی شکریہ ادا کیا، سیکیورٹی کے مشکل حالات میں تمام اداروں کا ایک یونٹ بن کر کام کرنا پنجاب کی بڑی طاقت ہے اور جب حکومت، پولیس، انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک ہی سمت میں کام کرتے ہیں تو دہشتگردی سمیت مختلف چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے پنجاب کو درپیش سیکیورٹی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کو مختلف سمتوں سے سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، افسوس کی بات ہے کہ بعض اوقات پنجاب کو ہمسایہ ملک سے زیادہ پڑوسی صوبوں سے دہشتگردی کا خطرہ درپیش ہوتا ہے اور بعض علاقوں سے دہشتگردی پنجاب میں داخل ہونے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب الحمدللہ ایک محفوظ صوبہ ہے، لیکن موجودہ حالات میں سیکیورٹی خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، پنجاب کی مختلف سرحدی سمتوں سے سیکیورٹی خدشات موجود رہتے ہیں، جس کے لیے مسلسل نگرانی، بروقت معلومات کا تبادلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان مربوط کارروائیاں ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی پنجاب کو کسی مشکل صورتحال کا سامنا ہوتا ہے تو صوبے میں ایک متحد ردعمل سامنے آتا ہے۔ حکومت، پولیس، سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق یہی ادارہ جاتی اتحاد پنجاب کو سیکیورٹی سمیت دیگر بڑے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مضبوط بناتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مصنوعی ذہانت کے شعبے کو مستقبل کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو حکومتی نظام اور عوامی سہولیات میں مؤثر انداز میں استعمال کیا جاسکتا ہے، پنجاب اے آئی حب کے ذریعے نوجوانوں، ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ افراد اور نئے آئیڈیاز رکھنے والے لوگوں کے لیے بھی آگے بڑھنے کے مواقع پیدا ہوں گے۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید وسعت دی جائے گی اور اے آئی کے شعبے میں صوبے کو آگے لے جانے کے لیے منصوبے کے آئندہ مراحل پر بھی کام جاری رکھا جائے گا، مصنوعی ذہانت صرف ٹیکنالوجی کا شعبہ نہیں بلکہ مستقبل کی معیشت، تعلیم، صحت، انتظامی امور اور عوامی خدمات میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت جدید ٹیکنالوجی اور اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ وزیراعلیٰ کے مطابق جس طرح مختلف اداروں نے مل کر پنجاب اے آئی حب کو ریکارڈ وقت میں مکمل کیا، اسی طرح اجتماعی کوششوں اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے صوبے کو درپیش سیکیورٹی، انتظامی اور ترقیاتی چیلنجز کا بھی مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔







