اعلامیے کے مطابق پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیے، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے ملاقات میں مقبوضہ بیت المقدس کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا۔ رہنماؤں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ اور دیگر مذہبی مقامات، خصوصاً ہولی چرچ تک رسائی میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مقدس مقامات کی حیثیت کو تبدیل کرنے یا ان پر پابندیاں عائد کرنے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں مسجد اقصیٰ کے دروازے بند رکھنا مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے اور یہ مذہبی آزادی کے اصولوں کے منافی ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں اردن کے محکمہ اوقاف کے اس مؤقف کا اعادہ کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور کا اختیار صرف اسی ادارے کے پاس ہے، اور اس حیثیت کو چیلنج کرنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہوگی۔
مزید پڑھیں: ایران کے پاس اچھا موقع ہے، معاہدہ کر لے ورنہ امریکی فوج تیار ہے، وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری
آخر میں 8 اسلامی ممالک نے عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے اسرائیل کو ان اقدامات سے باز رکھیں اور مقبوضہ بیت المقدس میں مذہبی مقامات کے احترام اور رسائی کو یقینی بنائیں۔







