انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں ملزمان کو قصوروار قرار دیا گیا ہے۔ عدالت نے سزا کے ساتھ ساتھ ملزمان کی جائیداد ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔
سزا پانے والوں میں عمر ایوب خان، زرتاج گل، مراد سعید، شبلی فراز، حماد اظہر، کنول شوذب، راشد شفیق، شہباز گل، ذلفی بخاری، محمد احمد چٹھہ، رائے حسن نواز، رائے محمد مرتضیٰ، شوکت علی بھٹی، عثمان سعید بسرا اور اعجاز خان جازی سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمان جی ایچ کیو راولپنڈی کے مرکزی گیٹ، حمزہ کیمپ اور آرمی میوزیم پر حملوں میں ملوث پائے گئے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ مظاہرین نے نہ صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا بلکہ پولیس اہلکاروں پر بھی حملے کیے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ 9 مئی کے واقعات میں منظم منصوبہ بندی کے تحت پرتشدد احتجاج کیا گیا جس کے نتیجے میں ریاستی اداروں اور عوامی املاک کو شدید نقصان پہنچا۔ اسی بنیاد پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سخت سزائیں سنائی گئیں۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق اس کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی سمیت مجموعی طور پر 118 افراد پر دسمبر 2024 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ استغاثہ کی جانب سے اب تک 44 گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق 118 ملزمان میں سے 18 افراد ٹرائل کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئے جبکہ 29 ملزمان مقدمے کے اندراج کے بعد سے اب تک عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے۔ عدالت نے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت 47 اشتہاری ملزمان کے خلاف علیحدہ ٹرائل چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔
پراسیکیوشن کی جانب سے رواں برس 6 جنوری کو اشتہاری ملزمان کے خلاف کارروائی کی درخواست دائر کی گئی تھی جس پر عدالت نے انکوائری کا حکم دیا۔ بعد ازاں 8 جنوری کو ان 47 مفرور ملزمان کے اشتہارات جاری کیے گئے اور انہیں سات روز کے اندر عدالت میں پیش ہونے کی مہلت دی گئی، تاہم مقررہ مدت میں کوئی بھی ملزم عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: ملک میں پیٹرول کی کوئی کمی نہیں، افواہوں کے باعث عارضی رش دیکھنے میں آیا: ترجمان اوگرا
عدالت نے بعد ازاں قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اشتہاری ملزمان کے لیے اسٹیٹ کونسل مقرر کیا اور ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی۔ پراسیکیوشن کی جانب سے 19 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جن پر اسٹیٹ کونسل نے جرح بھی کی۔
تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد عدالت نے شواہد اور دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزا سنا دی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا حق موجود ہے۔







