اجلاس میں وزیرِ اعظم نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام پر بوجھ کم سے کم ڈالنا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے متعلقہ کمیٹی کو ہدایت کی کہ 48 گھنٹوں کے اندر ایسا لائحہ عمل پیش کیا جائے جو سادگی اور بچت پر مبنی ہو اور عوامی ریلیف کو اولین ترجیح دے۔
انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی عالمی معاشی دباؤ کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوئی، تاہم عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر صارفین پر ممکنہ بوجھ کو کم کرنے کے لیے محدود اضافہ کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ کوئی بھی پیٹرول پمپ یا آئل کمپنی جو مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی گئی، اس کا فوری لائسنس منسوخ کیا جائے گا اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مزید پڑھیں: ملک میں پیٹرول کی کوئی کمی نہیں، افواہوں کے باعث عارضی رش دیکھنے میں آیا: ترجمان اوگرا
نے مزید ہدایت کی کہ وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم چاروں صوبوں کا دورہ کریں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر پیٹرولیم مصنوعات کی بچت، بلاتعطل فراہمی اور عوام کے لیے مؤثر اقدامات پر لائحہ عمل تیار کریں۔ اجلاس میں کمیٹی کو مزید فعال رہ کر عوامی مفاد میں سہل اور مؤثر سفارشات پیش کرنے کی ہدایت بھی دی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیرِ اعظم کا یہ اقدام نہ صرف موجودہ عالمی کشیدگی کے اثرات سے نمٹنے کی حکمت عملی ہے بلکہ عوام میں مالی دباؤ کو کم کرنے اور معاشی استحکام قائم رکھنے کی کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔







