وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اشیاء خورونوش کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور کسی بھی آئٹم کی قلت نہیں ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ملکی غذائی ضروریات کے لیے اشیاء خورونوش کی طلب و رسد کی مکمل نگرانی کی جائے تاکہ کوئی بھی شعبہ متاثر نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سپلائی چینز میں خلل آنے کے باوجود پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کی استعداد میں اضافہ ہوا ہے اور موجودہ حالات میں خطے کے برادر خلیجی ممالک کو درکار اشیاء خورونوش کی بروقت فراہمی اور ان کے غذائی تحفظ کو یقینی بنایا جائے، برآمدات کے دوران اعلیٰ معیار کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ پاکستانی مصنوعات کی شہرت اور اعتماد قائم رہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے، بشمول زرعی اجناس، گوشت، پولٹری، ڈیری اور سی-فوڈ میں برآمدات کی وسیع استعداد موجود ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گی اور برادر خلیجی ممالک میں تعینات سفیران و ٹریڈ افسران کو متحرک رہنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء جام کمال خان، رانا تنویر حسین، احد خان چیمہ، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ صوبائی چیف سیکریٹریز اور متعلقہ شعبے کی نجی ایسوسی ایشنز کے نمائندگان بھی اجلاس میں شامل ہوئے۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پی این ایس سی کے بحری راستے کے ذریعے برادر خلیجی ممالک میں اشیاء خورونوش کی برآمدات کو موثر اور بروقت بنایا جائے تاکہ خطے میں پاکستانی مصنوعات کی رسائی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ اجلاس کے دوران واضح کیا گیا کہ پاکستان کے موجودہ ذخائر اور پیداوار کے مطابق ملکی ضروریات متاثر ہوئے بغیر وافر مقدار میں اشیاء خورونوش برآمد کی جا سکتی ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر وزیرِ اعظم نے تمام متعلقہ اداروں اور شعبوں کو ہدایت کی کہ وہ برآمدات کے تمام مراحل کی نگرانی کریں، معیار اور مقدار میں توازن برقرار رکھیں اور برادر ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات مزید مستحکم بنائیں۔
یہ اجلاس ملک میں غذائی تحفظ اور خطے میں پاکستان کی تجارتی پوزیشن کو مضبوط کرنے کی حکمت عملی کے اہم اقدامات کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔







