غیر ملکی جریدوں کو دیے گئے انٹرویو میں وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان نے افغانستان میں کسی شہری آبادی یا عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ کارروائیاں صرف دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے، ان کے ٹھکانوں اور معاون نظام کے خلاف کی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور متعدد شدت پسند گروہ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اسی لیے ان عناصر کے خلاف کارروائیاں ناگزیر ہیں۔

ان  کا کہنا تھا کہ افغان حکام کی جانب سے پیش کیے جانے والے جانی نقصانات کے اعداد و شمار حقیقت پر مبنی نہیں اور انہیں سنجیدہ نہیں لیا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ دعوے حقائق کے بجائے سیاسی بیانیے کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔

انہوں نے افغان وزارت دفاع کے ترجمان کی جانب سے پاکستان کے خلاف میدان جنگ میں کامیابیوں کے دعوؤں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے اور انہیں محض پراپیگینڈا قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے افغانستان میں قائم اقوام متحدہ کا امدادی مشن برائے افغانستان کی جانب سے افغان شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان رپورٹس کی بنیاد زیادہ تر مقامی حکام کی فراہم کردہ معلومات پر ہوتی ہے، اس لیے ان کی تصدیق ضروری ہے۔

انہوں  نے کہا کہ حالیہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض دہشت گرد گروہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں اور ان کے درمیان تعاون کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں،پاکستان اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران میں تیل ذخائر پر حملوں کے بعد سیاہ تیزابی بارش، پاکستان پر اثرات کا خدشہ

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر کیے جانے والے حملوں کا فوری اور مؤثر انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ پاکستان نے ان کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، تاہم پاکستان کی سلامتی کے خلاف کسی بھی کارروائی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔