راولپنڈی میں جمعیت علمائے اسلام یوتھ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 8 فروری کو دو سال قبل ملک میں مرکزی انتخابات ہوئے، جن کے نتائج کو مسترد کر کے جعلی قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ آج جو حکومت کر رہی ہے وہ جعلی مینڈیٹ پر قائم ہے اور جمعیت علمائے اسلام ایسی حکومت کا حصہ نہیں بن سکتی تھی، اسی لیے اپوزیشن میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام محض اقتدار کی جنگ نہیں لڑ رہی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اقتدار میں آنا منزلِ مقصود نہیں بلکہ یہ سفر کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ حکومت بنائی نہیں گئی بلکہ کچھ جماعتوں کو آپس میں جوڑ دیا گیا اور ایسی حکومتیں جمہوریت اور سیاست کا مذاق ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اکثریت حاصل کرے تو دل سے اس کا احترام کریں گے۔ ہماری جنگ آئین کے ساتھ ہے، کسی اور کے ساتھ نہیں۔ قوم جسے مینڈیٹ دیتی ہے اس کا احترام ہونا چاہیے، مگر یہاں جس طرح جھرلو پھیرا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو چیلنج کرتا ہوں، الیکشن کمیشن کو ایک حلقے کا بھی درست نتیجہ معلوم نہیں تھا، نتائج باہر سے آتے تھے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ کٹھ پتلی الیکشن کمیشن ہے اور جمعیت علمائے اسلام ایسے جھرلو انتخابات کو قبول نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ جے یو آئی الزام تراشی کی سیاست نہیں کرتی بلکہ حقائق کی بنیاد پر بات کرتی ہے، ہماری سیاست میں اعتدال اور دلیل ہے اور اسی بنیاد پر قوم کی رہنمائی کر رہے ہیں۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ پوری دنیا کے سامنے ہے کہ فلسطین اور غزہ کے مسلمانوں پر کیا گزری۔ تین سال سے ان پر آگ کی بارش ہو رہی ہے، شہر کے شہر مٹ چکے ہیں، 70 ہزار سے زائد مسلمان شہید ہو چکے ہیں اور ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب صہیونی جارحیت ہے جس کی پشت پر امریکا ہے، ظلم کی مدد امریکا نے کی، بم اور ڈالر انہی کے ہیں۔ دنیا اسے نسل کشی کہتی ہے، جب کہ ہمارا وزیراعظم کہتا ہے کہ ٹرمپ کو نوبل انعام ملنا چاہیے۔ ایسی عقل مندی پر رونا آتا ہے، نوکری کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ہم نے عمران خان کی پالیسیوں کو سمجھ کر ان سے اختلاف کیا تھا تو آج کی حکومت اس سے بھی دو قدم آگے جا چکی ہے اور ہم بھی دو قدم آگے جا کر مخالفت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج وہی ٹرمپ غزہ کے لیے امن کا منصوبہ لائے ہیں، مگر یورپی ممالک اس کا حصہ نہیں بن رہے۔ امن بورڈ میں نیتن یاہو شامل ہے، جو مسلمانوں کا قاتل ہے، ایسے بورڈ میں بیٹھنا شرمناک ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:ورلڈ ڈیفنس شو میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کی خصوصی شرکت

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کا بائیکاٹ کیا گیا، جب کہ یہاں اس کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف کاغذ پر دستخط کرتے ہیں اور مسکرا کر دکھاتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے چین کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین نے پاکستان پر اعتماد کیا، عالمی تجارتی شاہراہ کے لیے پاکستان کو منتخب کیا، مگر عمران خان کے دور میں میگا پراجیکٹس روک دیے گئے۔ آج چین بھی پاکستان سے ناراض ہے اور سمجھتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے۔

افغانستان سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم سوال کرتی ہے کہ ظاہر شاہ سے لے کر امارتِ اسلامیہ تک افغانستان پاکستان کے ساتھ کیوں نہیں چل سکا۔ 78 سال سے افغان اور خارجہ پالیسی ناکام کیوں رہی؟ اگر وہاں سے دہشت گرد آتے ہیں تو انہیں مارا جائے، افغانستان سے ایک انار نہیں آ سکتا لیکن دہشت گرد آ رہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مغربی سرحدوں پر کبھی کہا جاتا ہے لڑنا ہے اور کبھی مذاکرات کی بات ہوتی ہے، ہر نیا آنے والا نئی پالیسی لے آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں مساجد میں نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کا مطلب ہے کہ نہ حکومت کی رٹ ہے اور نہ اختیار۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا کے خلاف جب جرات دکھائی گئی تو پوری قوم ساتھ کھڑی ہوئی۔ پاکستان سے لوگ باہر جا رہے ہیں، معیشت بہتر نہیں، امن نہیں اور ملکی سلامتی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر ایک ماہ سے زائد مذاکرات ہوئے، 34 شقوں پر اعتراض کیا گیا اور ترامیم شامل کروائیں۔ حکومت نے یکم جنوری 2028 تک سود کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا، مگر کیا پیش رفت ہوئی؟

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی کسی ایک سفارش پر بھی پارلیمان میں بحث نہیں ہوئی۔ ایسی نیتوں کے ساتھ آئینی ترامیم پر کون اعتماد کرے گا؟ 27ویں ترمیم آ گئی اور ایک سال میں اکثریت پوری کر لی گئی، یہ اکثریت کہاں سے آئی؟

انہوں نے کہا کہ صدرِ مملکت کو تاحیات استثنیٰ دینے کی بات ہو رہی ہے، آصف علی زرداری دوست ہیں اور خوش قسمتی سے صدر ہیں، مگر نبی اکرم ﷺ نے بھی خود کو استثنیٰ نہیں دیا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ 8 فروری کے انتخابات کے نتائج کے بعد جو حکمرانی سامنے آئی ہے اس میں خارجہ پالیسی، اقتصادی پالیسی اور دیگر تمام شعبے ناکام ہو چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام کسی ناجائز عمل میں حکومت کا ساتھ نہیں دے گی، تاہم اگر کوئی اچھا کام کیا گیا تو اس میں تعاون ضرور کیا جائے گا۔