فاروق ستار نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی تینوں کو مستعفی ہونا چاہیے۔

انہوں نے بہادر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ سے گل پلازہ کے حوالے سے سوالات کیے جا رہے ہیں، مگر سوالات پر وزیراعلیٰ سندھ، میئر کراچی اور شرجیل میمن جھنجھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ 18 برس سے اقتدار کے نشے میں ہیں اور ضد اور انا کے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی کو گل پلازہ کے سانحے سے توجہ ہٹانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن کا قیام ان کا بنیادی مطالبہ ہے اور وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے ان کی سیکیورٹی واپس لے لی جائے یا ان کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں۔

ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ گل پلازہ کے شہداء کو انصاف دلایا جائے گا۔ انہوں نے شرجیل میمن کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کسی کے کہنے پر جوڈیشل کمیشن نہیں بنانا چاہتے تو اپنی مرضی سے ہی بنا لیں، کیونکہ گزشتہ 18 برسوں سے تمام اداروں پر ان کا قبضہ ہے۔

انہوں نے کمشنر کراچی سے تحقیقات کرانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی تحقیقات قابلِ قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خالد مقبول صدیقی سمیت ایم کیو ایم کے تمام رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، حالانکہ سیکیورٹی اداروں نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔ 

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صوبائی حکومت ان کی سیکیورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتی تو کیا اسلام آباد کی پولیس انہیں تحفظ فراہم کرے گی؟

فاروق ستار نے صدر آصف علی زرداری کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب کراچی چار کروڑ آبادی کا شہر ہے اور حکومت سندھ اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر پا رہی تو کراچی کو وفاق کے حوالے کر دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں گورنر راج کی ضرورت نہیں، لیکن کراچی کے حوالے سے کوئی واضح فیصلہ ضرور ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے لیے وقت مانگ رہے ہیں، مگر انہیں وقت نہیں دیا جا رہا۔

یہ بھی پڑھیں: وادی تیراہ سے لوگ نقل مکانی سخت سردی کے باعث کر رہے ہیں، اس کا مسلح افواج یا وفاقی حکومت سے کوئی تعلق نہیں، خواجہ آصف

ایم کیو ایم کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ سندھ، وزیر اطلاعات اور میئر کراچی مستعفی ہوں اور حکومت سندھ خود دستبردار ہو، کیونکہ ان کے طرزِ عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کراچی کو ’ڈس اون‘ کر رہے ہیں۔

فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کا مینڈیٹ ایم کیو ایم کے پاس ہے اور گل پلازہ کا معاملہ حکومت کو نہیں چھوڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اپنے اقدامات سے خود کو کراچی سے الگ کر رہی ہے، اور اگر وہ کراچی کو ڈس اون کریں گے تو پھر کوئی اور کراچی کو اون کرے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ وہ ان تینوں شخصیات سے استعفیٰ کا مطالبہ نہیں کر رہے بلکہ بلاول بھٹو زرداری سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ان سے استعفیٰ لیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل کمیشن بنانا وزیر اطلاعات کی مرضی ہے، لیکن کمیشن بہرحال قائم کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس نہیں کی گئی، وہ بھی بحال کی جائے، ورنہ وہ اسلام آباد سے رجوع کریں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ وہ بلاول بھٹو سے سندھ اور عوام کے حقوق سے متعلق متعدد امور پر بات کرنا چاہتے ہیں۔اگر وہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود ہیں اور ان کی بات نہیں سنی جا رہی تو پھر انہیں وفاق سے بات کرنا پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ شرافت کے ساتھ جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے، بصورتِ دیگر حکومت کا گھمنڈ ٹوٹ جائے گا اور اس کا وقت آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 72 گھنٹے تک انہوں نے کوئی سوال نہیں اٹھایا، بلکہ سوالات عوام اور میڈیا کی جانب سے سامنے آئے۔

فاروق ستار نے کراچی فرانزک لیب پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ اربوں روپے کا منصوبہ ہونے کے باوجود صرف ایک عمارت بن کر رہ گیا ہے۔

ان کے مطابق اس عمارت پر آٹھ ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، لیکن عملی طور پر وہاں کوئی سہولت موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کراچی کے اساتذہ نے اپنی محدود وسائل میں چھوٹی لیبز قائم کی ہیں، حکومت کو ان سے سیکھنا چاہیے۔

آخر میں فاروق ستار نے دعویٰ کیا کہ 2029 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی مکمل طور پر فارغ ہو جائے گی۔