میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں امن و امان کی صورتحال پر بحث کے دوران اظہار خیال کیا۔ انہوں نے بحیثیت بلوچ پاکستانی پولیس، ایف سی، آرمی اور خصوصاً ان معصوم شہریوں کے خون پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جو دہشتگردی کا نشانہ بنے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت اور صوبائی اسمبلی ان کے غم میں برابر کی شریک ہیں۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حوالے سے منظم انداز میں کنفیوژن پیدا کیا گیا اور ریاست اور صوبے کے عوام خصوصاً نوجوانوں کے درمیان بداعتمادی کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، جو عناصر عام شہریوں، مردوں، خواتین اور بچوں کو قتل کرتے ہیں، ان کے حامی اس قتل و غارت کو محرومیوں سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ جن مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے وہ پورے ملک کو درپیش ہیں۔

وزیرِاعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی میں 11 اراکین پہلی مرتبہ منتخب ہو کر آئے ہیں، جب کہ دیگر ارکان دوسری یا تیسری بار منتخب ہوئے ہیں۔

انہوں نے فارم 47 کے الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں کسی کو ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے کا حق حاصل نہیں۔ اگر بعض علاقوں میں ترقی کا فرق موجود ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بندوق اٹھا لی جائے؟

سرفراز بگٹی نے 2022 میں پنجگور اور نوشکی کے بارڈرز کھلے ہونے کے باوجود دہشتگردی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسائل کا حل تشدد نہیں۔

قومی اسمبلی: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کا استعفیٰ منظور

انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین کے بعد کسی معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں، آئین ہی وہ واحد دستاویز ہے جو ہم سب کو جوڑتی ہے۔ آئین کے بعد نیشنل ایکشن پلان ملک کا اہم ترین دستاویز ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت صوبے میں امن کے قیام، نوجوانوں کو مواقع کی فراہمی اور ترقیاتی عمل کے تسلسل کے لیے پرعزم ہے، تاہم عام شہریوں کے قتل میں ملوث عناصر سے کسی قسم کی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے کو درپیش چیلنجز کا حل تشدد یا بندوق کی سیاست میں نہیں بلکہ آئین، سیاسی مکالمے اور اجتماعی دانش میں مضمر ہے۔

وزیرِاعلیٰ بلوچستان نے ایوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلے کا حل چاہتے ہیں تو قیادت کریں، وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں لیکن ان عناصر سے بات نہیں ہوگی جو معصوم شہریوں کا خون بہاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ شہید قریشی کے والدین سے بھی ملے جن کا بیٹا بلوچستان کے بارڈر پر شہید ہوا۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ گوادر میں 66 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں اور یہ پہلا ضلع ہے جہاں کوئی اسکول بند نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جو ڈاکو سرنڈر نہیں کرے گا، وہ مارا جائے گا، وزیر داخلہ سندھ

انہوں نے یاد دلایا کہ اسی ایوان نے 18ویں آئینی ترمیم اور آغازِ حقوق بلوچستان پیکج دیا تھا۔ انہوں نے جسٹس نواز مری کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہائی کورٹ اور اسمبلی کے سامنے بے دردی سے شہید کیا گیا۔

وزیرِاعلیٰ بلوچستان نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں بی ایل اے سے وابستہ افراد کو جیلوں سے رہا کیا گیا۔ اسمبلی کی سفارش پر ایف سی کی چیک پوسٹیں بھی ختم کی گئیں اور اپریزمنٹ کا سلسلہ جاری رہا۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ 1947 میں کیا صرف بلوچ اور پشتون تقسیم ہوئے تھے، کیا پنجابی اور سندھی تقسیم نہیں ہوئے تھے؟

سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کا مستقبل بندوق نہیں بلکہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ٹیکنالوجی ہے۔ نوجوانوں کو مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ ایک کروڑ کی آبادی والے صوبے میں ایک مخصوص کال پر کتنے لوگ ساتھ آئے؟

انہوں نے 1971 کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں شفاف قرار دیا جاتا ہے، مگر کیا سردار عطا اللہ مینگل اکیلے حکومت بنا سکے تھے؟

لازمی پڑھیں: پاکستان ہمارا ملک ہے، ہمیں آبادی کے حساب سے اپنا حصہ چاہیے، محمود اچکزئی

انہوں نے کہا کہ بلوچ محبت کرنے والے لوگ ہیں اور جو محبت و احترام کرے گا، اس کے ساتھ احترام سے پیش آئیں گے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے اپیل کی کہ بلوچستان کی محرومیوں اور تشدد کو الگ الگ رکھا جائے۔ کوئٹہ بی آر ٹی منصوبے کے لیے 14 بین الاقوامی کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کی ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچ تاریخ میں کبھی خواتین کو استعمال نہیں کیا گیا، مگر اب انہیں خودکش جیکٹس پہنائی جا رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سہولیات فراہم کرنا پارلیمان کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عام شہریوں کی فکر نہ ہوتی تو دہشتگردوں کو دس منٹ میں جواب دیا جا سکتا تھا، مگر فورسز ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہیں کیونکہ دہشتگرد عام لوگوں کو شیلڈ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

سرفراز بگٹی نے فارم 47 کے بیانیے کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اس میں حقیقت ہوتی تو عدالتیں فیصلہ کر چکی ہوتیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے لوگ پاکستان کے ساتھ ہیں اور رہیں گے اور بلوچ نوجوانوں کو اس لاحاصل جنگ سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔